خزینۃ الدعا — Page 224
ورو حزينَةُ الدُّعَاءِ 44 شفائے مرض کی ایک دعا اَدْعِيَةُ الْمَهْدِى ایک وبائی بیماری میں خدا تعالیٰ نے حضور علیہ السلام کو یہ بتلایا کہ اس کے ان ناموں کا ورد کیا جاوے۔’يَا حَفِيْظُ۔يَا عَزِيْزُ - يَارَفِيْقُ۔“ یعنی اے حفاظت کرنے والے۔اے عزت والے اور غالب اے دوست اور ساتھی ! فرمایا 'رفیق خدا تعالیٰ کا نیا نام ہے۔جو کہ اس سے پیشتر اسماء باری تعالیٰ میں کبھی نہیں آیا“۔البدر جلد 2 نمبر 35 صفحہ 280 مورخہ 18 ستمبر 1903ء وتذکرہ ص404) موذی بیماری سے شفا کی دعا 27 جنوری 1905ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دائیں رخسار میں ایک آماس سا نمودار ہونے سے بہت تکلیف ہوئی دعا کرنے پر یہ فقرات الہام ہوئے۔جن کے دم کرنے سے فورا صحت عطا ہوئی۔( تذکره صفحه 442) بِسْمِ اللهِ الْكَافِي بِسْمِ اللَّهِ الشَّافِي بِسْمِ اللَّهِ الْغَفُوْرِ الرَّحِيْمِ بِسْمِ اللَّهِ الْبَرِّ الْكَرِيمِ يَا حَفِيْظُ يَا عَزِيْزُ يَارَفِيْقُ يَا وَلِيُّ اشْفِنِي میں اللہ کے نام سے مدد چاہتا ہوں جو کافی ہے۔اللہ کے نام کے ساتھ جو شافی ہے۔اللہ کے نام کے ساتھ جو بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اللہ کے نام کے ساتھ جو احسان کرنے والا اور عزت والا ہے۔اے حفاظت کرنے والے اے عزت وغلبہ والے اے ساتھی اے دوست مجھے شفا دے۔مرض سے شفا کی ایک اور دعا 1906ء میں بیماری کی حالت میں یہ دعا الہام ہوئی۔اشْفِنِي مِنْ لَّدُنْكَ وَارْحَمْنِي یعنی اپنے حضور سے مجھے شفا عطا کر اور مجھ پر رحم کر۔( تذکره صفحه 523) 226