خزینۃ الدعا — Page 201
حزينَةُ الدُّعَاءِ 21 ادْعِيَةُ المَهْدِى اشتہار شائع کیا گیا تھا۔(حقیقۃ الوحی صفحہ 220، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 230) علي يد ”ایک دفعہ میرا چھوٹا لڑکا مبارک احمد بیمار ہو گیا۔غشی پر غشی پڑتی تھی اور میں اس کے قریب مکان میں دعا میں مشغول تھا اور کئی عورتیں اس کے پاس بیٹھی تھیں کہ یک دفعہ ایک عورت نے پکار کر کہا کہ اب بس کرو کیونکہ لڑکا فوت ہو گیا۔تب میں اس کے پاس آیا اور اس کے بدن پر ہاتھ رکھا اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کی تو دو تین منٹ کے بعد لڑکے کو سانس آنا شروع ہو گیا اور نبض بھی محسوس ہوئی اور لڑکا زندہ ہو گیا۔تب مجھے خیال آیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا احیاء موتی بھی اس قسم کا تھا اور پھر نادانوں نے اس پر حاشیے چڑھا دیئے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 253، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 265) ہیں پانچواں نشان جو ان دنوں میں ظاہر ہوا وہ ایک دعا کا قبول ہونا ہے جو در حقیقت احیائے موتی میں داخل ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ عبدالکریم نام ولد عبدالرحمن ساکن حیدر آباد دکھن ہمارے مدرسہ میں ایک لڑکا طالب علم ہے۔قضاء و قدر سے اس کو سگِ دیوانہ کاٹ گیا ہم نے اس کو معالجہ کے لئے کسولی بھیج دیا چند روز تک اس کا کسولی میں علاج ہوتا رہا۔پھر وہ قادیان میں واپس آیا تھوڑے دن گزرنے کے بعد اس میں وہ آثار دیوانگی کے ظاہر ہوئے جو دیوانہ کتے کے کاٹنے کے بعد ظاہر ہوا کرتے ہیں اور پانی سے ڈرنے لگا اور خوفناک حالت پیدا ہوگئی تب اس غریب الوطن عاجز کے لئے میرا دل سخت بیقرار ہوا اور دعا کے لئے ایک خاص توجہ پیدا ہوگئی۔ہر ایک شخص سمجھتا تھا کہ وہ غریب چند گھنٹہ کے بعد مر جائے گا۔ناچار اس کو بورڈ نگ سے باہر نکال کر ایک الگ مکان میں دوسروں سے علیحدہ ہر ایک احتیاط سے رکھا گیا اور کسولی کے انگریز ڈاکٹروں کی طرف تار بھیج دی اور پوچھا گیا کہ اس حالت میں اس کا کوئی علاج بھی ہے۔اس طرف سے بذریعہ تار جواب آیا کہ اب اس کا کوئی علاج نہیں۔مگر اس غریب اور بے وطن لڑکے لئے میرے دل میں بہت توجہ پیدا ہوگئی۔اور میرے دوستوں نے بھی اس کے لئے دعا کرنے کے لئے بہت ہی اصرار کیا۔کیونکہ اس غربت کی حالت میں وہ لڑکا قابل رحم تھا۔اور نیز دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ اگر وہ مرگیا تو 203