خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 189 of 267

خزینۃ الدعا — Page 189

حزينَةُ الدُّعَاءِ ادعِيَةُ المَهْدِى دعا جب قبول ہونے والی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دل میں ایک جوش اور اضطراب پیدا کر دیتا ہے اور بسا اوقات اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دعا سکھاتا ہے۔۔۔خدا تعالیٰ اپنے راستباز بندوں کو قبول ہونے والی دعائیں خود الہا نا سکھا دیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 164) دعا تو ایک ایسی چیز ہے جو ہر مشکل کو آسان کر دیتی ہے۔لوگوں کو دعا کی قدر و قیمت معلوم نہیں وہ بہت جلد ملول ہو جاتے ہیں۔۔۔۔حالانکہ دعا ایک استقلال اور مداومت کو چاہتی ہے۔۔۔اخلاص اور مجاہدہ شرط ہے جو دعاہی سے پیدا ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 615) جو رات کو اٹھتا ہے خواہ کتنی ہی عدم حضوری اور بے صبری ہولیکن اگر وہ اس حالت میں بھی دعا کرتا ہے کہ الہی دل تیرے ہی قبضہ اور تصرف میں ہے تو اس کوصاف کردے تو اس قبض سے بسط نکل آئے گی۔“ 66 ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 398,397) دعا کے لئے جب درد سے دل بھر جاتا ہے اور سارے حجابوں کو توڑ دیتا ہے اس وقت سمجھنا چاہئے کہ دعا قبول ہوگئی۔یہ اسم اعظم ہے۔اس کے سامنے کوئی انہونی چیز نہیں ہے۔ایک خبیث کے لئے جب دعا کے ایسے اسباب میسر آجائیں تو یقیناًوہ صالح ہو جاوے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 100) دعا سے پہلے اسباب ظاہری کی رعایت اور نگہداشت ضروری طور پر کی جاوے اور ( ملفوظات جلد اول صفحہ 89) پھر دعا کی طرف رجوع ہو۔“ " جس قدر اضطرار اور اضطراب بڑھتا جاوے گا اسی قدر روح میں گدازش ہوتی 66 جائے گی اور یہ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 707) 191