خزینۃ الدعا — Page 185
زينَةُ الدُّعَاءِ 5 ادْعِيَةُ المَهْدِى جو لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں ان کو سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں دعا ایسی چیز ہے کہ خشک لکڑی کو بھی سرسبز کر سکتی ہے اور مردہ کو زندہ کر سکتی ہے۔اس میں بڑی تاثیریں ہیں۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 100) دعا عمدہ شے ہے اگر توفیق ہو تو ذریعہ مغفرت کا ہو جاتی ہے اور اسی کے ذریعہ سے رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ مہربان ہو جاتا ہے۔دعا کے نہ کرنے سے اول زنگ دل پر چڑھتا ہے پھر قساوت پیدا ہوتی ہے پھر خدا سے اجنبیت پھر عداوت پھر نتیجہ سلب ایمان ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 628) لوگ اس نعمت سے بے خبر ہیں کہ صدقات، دعا ور خیرات سے رد بلا ہوتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو انسان زندہ ہی مرجاتا۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ (201) اگر کوئی تقدیر معلق ہو تو دعا اور صدقات اس کو ٹلا دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس تقدیر کو بدل دیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 ص 24) اللہ جلشانہ نے جو دروازہ اپنی مخلوق کی بھلائی کے لئے کھولا ہے وہ ایک ہی ہے یعنی دعا۔جب کوئی شخص بکاؤ زاری سے اس دروازہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ مولائے کریم اس کو پاکیزگی و طہارت کی چادر پہنا دیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 315) حصول فضل کا اقرب طریق دعا ہے۔جود عا۔۔۔عاجزی اضطراب اور شکستہ دل سے بھری ہوئی ہو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہے۔۔۔اصلی اور حقیقی دعا کے واسطے بھی دعا ہی کی ضرورت ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 ص397) 187