خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 166 of 267

خزینۃ الدعا — Page 166

خَزِينَةُ الدُّعَاءِ 115 مناجات رسُول الله الله سفر طائف میں در بارالہ میں آہ وزاری حضرت عبد اللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں کہ ابو طالب کی وفات کے بعد نبی کریمہ اہل طائف کے پاس دعوتِ اسلام کے لئے تشریف لے گئے جسے انہوں نے قبول نہ کیا آپ نے ایک درخت کے سائے کے نیچے آکر دو رکعت نماز ادا کی اور اُس کے بعد اپنے مولیٰ کے حضور یوں آہ وزاری کی :۔اللَّهُمَّ إِلَيْكَ أَشْكُو ضُعْفَ قُوَّتِي ، وَ قِلَّةَ حِيْلَتِي وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي إِلَى عَدُةٍ يَتَجَهَّمُنِي أَمْ إِلَى قَرِيْبٍ ملَكْتَهُ أَمْرِى ؟ إِنْ لَمْ تَكُنْ سَاخِطًا عَلَيَّ فَلَا أَبَالِي ، غَيْرَأَنَّ عَافِيَتَكَ أَوْسَعُ لِي أَعُوْذُ بِنُورِ وَجْهِكَ الْكَرِيمِ الَّذِي أَضَاءَ تْ لَهُ السَّمْوَاتُ وَالْاَرْضُ ، وَأَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ ، وَصَلَحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، أَنْ تَحِلَّ عَلَيَّ غَضَبُكَ أَوْ تَنْزِلَ عَلَيَّ سُخَطُكَ ، وَلَكَ الْعُتْنِي حَتَّى تَرْضَى وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ - (کتاب الدعاء للطبرانی جلد ۲ صفحہ ۱۲۸۰) ترجمہ: اے اللہ ! میں اپنے ضعف و ناتوانی اور کوتا ہی تدبیر کی شکایت تجھ سے ہی کرتا ہوں اور لوگوں میں رسوا ہونے کی شکایت ) بھی۔اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے ! تو مجھے کس کے سپرد کر دے گا ؟ کیا ایسے دشمن کے حوالے کرے گا ) جو مجھے تباہ کر دے یا کسی ایسے قریبی کے ( سپرد ) جسے تو میرے معاملہ میں کئی اختیار دے دے؟ ( خیر ! ) اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو پھر مجھے بھی کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔مگر ہاں تیری وسیع تر عافیت کا میں ( ضرور ) طلبگار ہوں۔میں تیرے عزت والے چہرے کے نور کی پناہ مانگتا ہوں کہ جس سے زمین و آسمان روشن ہیں اور جس نے اندھیروں کو منور کر دیا ہے اور دنیا و آخرت کے معاملے جس کے ساتھ درست ہوتے ہیں (اس بات سے پناہ) کہ تیرا غضب مجھ پر نازل ہو یا میں تیری ناراضگی کا 167