ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 73 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 73

اس حدیث کے خاص انداز بیان میں حکمت اس انداز بیان میں جو اپنی نوع کا ایک خاص کلام ہے یقیناً یہی اشارہ کرنا مقصود تھا کہ دیکھنا آنے والے مسیح کو یونہی غیر اصطلاحی طور پر نام کا نبی نہ سمجھ لینا بلکہ نفسِ نبوت کے لحاظ سے (نہ کہ مقام نبوت یا قسم نبوت کے لحاظ سے ) وہ اسی طرح خُدا کا نبی ہے جس طرح کہ میں نبی ہوں۔اللہ اللہ ! ہمارے پاک رسول کا کلام بھی کس شان کا کلام ہے کہ اس کے لفظ لفظ میں حکمت و معرفت کے خزانے بھرے ہوئے ہیں۔ہاں سوچو اور غور کرو کہ اگر آپ صرف یہ سادہ الفاظ فرماتے کہ آنے والا مسیح نبی ہوگا تو ان غلط فہمیوں کے پیش نظر جو اس مسئلہ میں پیدا ہونے والی تھیں شک کرنے والے لوگ اس شک میں مبتلا ہو سکتے تھے کہ شاید اس جگہ نبی کا لفظ غیر اصطلاحی طور پر استعمال کیا گیا ہے ورنہ یہاں حقیقہ نبی مُراد نہیں ہے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لیس بینی و بینہ نبی (یعنی میرے اور اس کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ) کے حکیمانہ الفاظ استعمال کر کے یہ تعین فرما دی ہے کہ جس طرح میں خدا کا نبی ہوں اسی طرح آنے والا مسیح بھی خدا کا نبی ہوگا۔اور گو وہ میرا خادم اور شاگرد اور خلق ہوگا۔مگر بہر حال اس کے نبی ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔کیونکہ اُمت محمدیہ کے ایک کنارے پر میں کھڑا ہوں۔اور دوسرے کنارے پر یہ آنے والا صحیح ہے۔اور ہمارے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔یہ حدیث اتنی صاف اور اتنی واضح ہے کہ کوئی غیر متعصب انسان اس کے مفہوم کے متعلق ایک سیکنڈ کے لئے بھی شک نہیں کر سکتا۔علاوہ ازیں لیس بینی و بینۂ نبی کے الفاظ میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر مسیح موعود کے ظہور سے پہلے میری اُمت میں کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے تو اُسے ہرگز نہ ماننا کیونکہ