ختم نبوت کی حقیقت — Page 72
۷۲ الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية- (ابوداؤ د کتاب الملاحم باب خروج الدجال ) یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ آنے والے مسیح اور میرے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے۔اور مسیح ضرورتم میں نازل ہوگا۔پس جب وہ آئے تو تم اُسے دیکھتے ہی پہچان لینا۔اُس آنے والے مسیح کا قد درمیانہ ہوگا اور رنگ سُرخی کی جھلک لئے ہوئے سفید ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اسلام کی تائید میں دوسرے مذہبوں کے ساتھ مقابلہ کرے گا۔اور صلیبی عقائد کو پاش پاش کر دے گا۔اور خنزیری گندوں کو مٹا دیگا۔اور چونکہ اُس کے زمانہ میں دین کے لئے تلوار کی جنگ نہیں ہوگی اس لئے وہ جزیہ کو بھی منسوخ کر دے گا۔“ یہ حدیث ایسے صاف اور سید ھے الفاظ پر مشتمل ہے کہ کسی تشریح اور کسی استدلال کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم خودا پنی زبانِ مبارک سے آنے والے مسیح کو نبی کے نام سے یاد فرماتے ہیں۔بلکہ اس خیال سے کہ کہیں آیت خاتم النبیین کی غلط تشریح کی وجہ سے آنے والے مسیح کے متعلق یہ غلط نہی نہ پیدا ہو کہ وہ حقیقہ نبی نہیں ہے بلکہ اُسے صرف غیر اصطلاحی طور پر وسعت مفہوم کے لحاظ سے نبی کا نام دیدیا گیا ہے۔آپ اس حدیث میں گفتگو کے عام اور معروف طریق سے اجتناب کر کے یہ پر حکمت الفاظ استعمال فرماتے ہیں کہ :۔لیس بینی و بینه نبی یعنی میرے اور اس آنے والے مسیح کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے۔“