ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 59 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 59

۵۹ " کسی نبی کے ” نہ آنے اور نہ آ سکتے میں باریک فرق اس موقع پر بعض جلد باز لوگ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت ملا علی قاری نے یہ جواب صرف امکانی رنگ میں دیا ہے ورنہ اُن کا ذاتی عقیدہ یہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اس اعتراض کے متعلق اصولی رنگ میں یادرکھنا چاہئیے کہ اول تو حضرت ملا علی قاری کی طرف سے ایسے صریح اور واضح اظہار کے بعد یہ دعوی کرنا کہ اُن کا ذاتی عقیدہ کچھ اور تھا ایک ایسا بعید الفقیاس دعوئی ہے جسے قطعی دلیل کے بغیر ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ حق یہ ہے کہ جو حوالہ حضرت ملا علی قاری کا اُو پر درج کیا گیا ہے اس کے شروع میں خُود حضرت مُلا صاحب نے اپنے ہاتھ سے ایسے الفاظ بڑھا دیئے ہیں جن سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ اُن کا ذاتی عقیدہ بھی یہی تھا جو او پر لکھا گیا ہے نہ کہ اس کے خلاف۔چنانچہ اُن کے پورے الفاظ یہ ہیں :۔قُلت و مع هذا لو عاش ابراهيم وصار نبيًّا لكان من اتباعه۔۔۔۔۔فلا يناقض قوله تعالی خاتم النبین الخ (موضوعات صفحہ ۶۷) د یعنی میں کہتا ہوں (میں کہتا ہوں“ کے الفاظ ملاحظہ ہوں ) کہ باوجود اُن مختلف اقوال کے جو اس مسئلہ کے متعلق کہے گئے ہیں اگر ابراہیم نبی بن جاتا تو اُس نے پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں ہی رہنا تھا۔پس اس صورت میں بھی ابراہیم کا نبی بننا خدائی ارشاد خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا۔66