ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 55 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 55

آپ کو صاحبزادہ ابراہیم کے ساتھ بہت محبت تھی۔مگر قضائے الہی سے یہ بچہ بھی سترہ اٹھارہ ماہ کے بعد فوت ہو گیا۔طبعا اُس کی وفات کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت صدمہ ہوا۔اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے لیکن آپ نے اس کے سوا کچھ نہیں فرمایا کہ انا بفراقك يا ابراهيم لمحزونون یعنی اے ابراہیم ہم تیری جدائی کی 66 وجہ سے بہت مغموم ہیں۔“ اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ بھی فرمایا :۔لو عاش ابراهيم لكان صديقًا نبيًّا - (ابن ماجہ کتاب الجنائز) یعنی اگر میرا یہ بچہ ابراہیم زندہ رہتا تو وہ ضرور صدیق نبی بن جاتا۔“ صديقا نبیا کی مرکب اصطلاح میں لطیف حکمت اس حدیث میں جو صدیق نبی کی مرکب اصطلاح استعمال ہوئی ہے اس میں صاحبزادہ ابراہیم کے درجہ کی بلندی کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔اور مطلب یہ ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو وہ اپنے اندر صد یقیت اور نبوت دونوں کی برکات اور دونوں کے اوصاف جمع کرتا۔چنانچہ قرآنِ مجید نے جہاں حضرت اور میں علیہ السلام کے لئے صدیقاً نبیا کی مرکب اصطلاح استعمال کی ہے ( اور حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے علاوہ صرف حضرت ادریس ہی ایک ایسے نبی ہیں جن کے متعلق یہ اصطلاح استعمال ہوئی ہے ) وہاں ساتھ ہی قرآنِ مجید نے فرمایا ہے کہ رَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا ( سوره مریم آیت ۵۸ ) ” یعنی