ختم نبوت کی حقیقت — Page 50
خاتمہ کے لفظ کی دوسری قرأت اب رہی لفظ حاتم کی دوسری قرآت جو شاذ کے طور پرت کی زیر سے بیان ہوئی ہے۔سواگر غور کیا جائے تو اس کی رُو سے بھی ہرگز مبقت کا ختم ہونا ثابت نہیں ہوتا۔کیونکہ غور کیا روسے ہر کا اس صورت میں لفظ خاتم النبیین کے صاف اور سید ھے معنی یہ بنتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کے کمالات ختم ہیں یعنی آپ افضل ترین نبی ہیں نہ یہ کہ آپ نعوذ باللہ نبوت کا انعام ہی ختم کرنے والے اور ایک بہتی ہوئی نہر کو بند کرنے والے ہیں۔چنانچہ عربی لغت کی مشہور کتاب اقرب الموارد میں لکھا ہے کہ۔ختم الله له الخير اتمه_یعنی جب یہ کہا جائے کہ خدا نے فلاں شخص کے لئے خوبیوں کو ختم کر دیا تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اُنہیں کمال تک پہنچا دیا۔پھر اس بات کو تو سکول کے بچے بھی جانتے ہیں کہ جب مثلاً یہ کہا جائے کہ فلاں شخص پر مصوری کا ہنر ختم ہے تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ اس نے مصوری کے ہنر میں انتہائی کمال پیدا کیا ہے نہ یہ کہ اس کے بعد کوئی مصوّر پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔اس قسم کے محاورے ہر زبان میں کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔بہر حال خاتم کی ت کی زیر سے بھی آیت کے معنی بالکل صاف اور واضح ہیں جس میں کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آتی۔چنانچہ انہی معنوں کے لحاظ سے حضرت مولانا رومیؒ (وفات ۷۲ ہجری) اپنی مثنوی میں فرماتے ہیں۔بہ ایں خاتم شد است اوکه بجود مثل ہو ئے بود کے خواهند بود (مثنوی رومی دفتر ششم صفحه ۶)