ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 45 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 45

آیت خاتم النبیین کے دو امکانی معنی یہ وہ پس منظر ہے جس میں آیت خاتم النبیین کا نزول ہوا اور اس سے ظاہر ہے کہ اس آیت میں خاتم النبیین کا لفظ گو یا اس بلند آیت کی چوٹیوں میں سے بلند ترین چوٹی ہے مگر افسوس صد افسوس کہ اسی لفظ کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع شان کے اظہار کے لئے استعمال کیا گیا ہے خدائی نعمتوں کے دروازہ کو بند کرنے والا قرار دیا جاتا ہے۔اور اس سے یہ غلط استدلال کیا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کی نہر ہمیشہ کے لئے خشک ہوگئی ہے۔اور آپ کے بعد کوئی شخص خواہ وہ آپ کا شاگرد اور متبع اور خادم ہی ہو نبی نہیں بن سکتا۔لیکن جیسا کہ ہم انشاء اللہ ابھی ثابت کریں گے یہ تشریح ہر گز درست نہیں۔کیونکہ نہ صرف عربی زبان کے قواعد کے مطابق بلکہ اس آیت کے الفاظ اور اس آیت کی شان نزول کے پیش نظر بھی اس آیت کے صرف دو ہی معنی بنتے ہیں اور وہ دو معنی یہ ہیں کہ :۔(۱) اے لوگو! محمدصلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد یعنی نرینہ اولاد کے جسمانی باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہونے کے لحاظ سے مومنوں کے رُوحانی باپ ہیں وہ نبیوں کی مہر ہیں اور اس لحاظ سے گویا نبیوں کے لئے بھی بمنزلہ باپ کے ہیں۔اور آئندہ کوئی نبی آپ کی تصدیقی مہر کے بغیر سچا نہیں سمجھا جاسکتا۔یا (۲) اے لوگو! محمدصلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں لیکن وہ رسول ہونے کے لحاظ سے مومنوں کے باپ ہیں اور رسول بھی اس شان کے کہ اُن پر تمام کمالات نبوت ختم ہیں یعنی وہ افضل ترین نبی ہیں۔