ختم نبوت کی حقیقت — Page 44
۴۴ آپ پر یہ طعن کیا کہ نعوذ باللہ آپ بے ثمر اور ابتر ہیں اور یہ کہ آپ کی وفات کے ساتھ آپ کا سارا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔اِس پر خُدا تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما ئیں کہ:۔إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَةُ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَالْحَرْثُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ (سوره کوثر) " یعنی اے محمد ! ہم نے تجھے عظیم الشان نعمتیں عطا کی ہیں۔پس تو ان انعاموں کی شکر گزاری میں خوب عبادت بجالا اور خدا کے رستہ میں بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کر کیونکہ دُعاؤں اور قربانیوں کے نتیجہ میں تو اور ترقی کریگا اور یقیناً تیرا دشمن جو تجھے ابتر کہتا ہے وہ خودا بہتر اور بے شمر رہے گا۔“ اس کے بعد جب مدینہ کی ہجرت ہو چکی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائی حکم کے ماتحت اعلان فرمایا کہ میں نے جو اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کوا پنامُنہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا وہ اب اسلامی احکام کے ماتحت جائز نہیں رہا۔اس لئے آئندہ میرے ساتھ زید کا کوئی جسمانی رشتہ نہ سمجھا جائے (سورہ احزاب آیت ۵ تا ۷ ) تو اِس اعلان سے بد بخت کفار نے ناجائز فائدہ اُٹھا کر پھر اپنے سابقہ طعن کو دُہرایا کہ لڑکے تو پہلے ہی مر چکے تھے اب منتیشنی کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا اور گو یا خاکش بدہن ابتریت مکمل ہوگئی۔اس پر خاتم النبیین والی آیت نازل ہوئی اور اس کے ذریعہ اعلان کیا گیا کہ بیشک خدائی مصلحت کے ماتحت محمد رسول اللہ کی نرینہ اولاد کوئی نہیں لیکن وہ خُدا کا رسول ہے اور اس لحاظ سے وہ کثیر التعداد رُوحانی اولا دکا باپ ہے بلکہ عام رسولوں سے بھی بڑھ کر وہ خاتم النبیین بھی ہے۔اور اس کے پروں کے نیچے نبی اور رسول پرورش پانے والے ہیں۔پس وہ ہرگز ابتر اور بے شمر نہیں بلکہ عظیم الشان روحانی سلسلہ کا بانی اور اولین و آخرین کا سردار ہے۔