ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 22 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 22

۲۲ بہت زیادہ اعتماد کا درجہ رکھتا ہے۔اور چونکہ ان بزرگوں کے اقوال موجودہ اختلاف اور موجودہ بحث سے پہلے کے ہیں اسلئے وہ اس تعصب کے عصر سے بھی پاک ہیں جو بد قسمتی سے حاضر الوقت مسلمانوں کے دلوں میں جماعت احمدیہ کے خلاف پایا جاتا ہے۔اور ان کے علم اور تقویٰ کا مقام بھی یقیناً موجودہ زمانہ کے مولویوں سے بدرجہا بہتر اور بدر جہا ارفع تھا۔چوتھے درجہ پر عقل انسانی ہے جو اپنی امکانی لغزشوں کے باوجود خدا کی طرف سے پیدا کیا ہوا اندرونی ٹور ہے جس کے ذریعہ دُنیا کے اکثر کام سرانجام پاتے ہیں۔اور اس میں شبہ نہیں کہ اگر درمیان میں کوئی ظلمت کا پردہ حائل نہ ہو تو کھوٹے کھرے کو پہچاننے کے لئے عقل ایک بہت مفید اور کارآمد آلہ ہے۔سواب یہ خاکسار خدا کی توفیق سے انہیں چار معیاروں کے مطابق ختم نبوت کے سوال پر نظر ڈالتا ہے تا ہمارے معز ز ناظرین اس معاملہ میں کسی فیصلہ کن نتیجہ پر پہنچ سکیں۔وما توفیقی الا باللہ العظیم نعم المولى و نعم الوکیل۔۔۔۔۔