ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 179 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 179

۱۷۹ ختم نکات کی حقیقت ہوتی ہے کہ صرف تشریعی نبوت اور مستقل نبوت کا دروازہ بند ہے۔ظلی نبوت کا دروازہ ہرگز بند نہیں۔اور ظلی نبوت سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں اور خوشہ چینوں میں سے کوئی شخص آپ کے فیض سے فیض پا کر اور آپ کے انوار کا عکس لیکر نبوت کا مقام حاصل کرے۔ایسی نبوت جو فنافی الرسول کے طریق پر حاصل ہو حقیقہ آپ ہی کی نبوت کا حصہ ہے نہ کہ کوئی غیر چیز۔اس لئے اس قسم کی نبوت کے باوجود آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم ہی آخری نبی رہتے ہیں۔احادیث کے بعد بزرگوں کے اقوال کا درجہ آتا ہے۔اور ہم ثابت کر چکے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے لیکر موجودہ زمانہ تک کوئی زمانہ بھی ایسا نہیں گزرا جس میں کسی نہ کسی اسلامی بزرگ نے کم و بیش وہی عقیدہ نہ ظاہر کیا ہو جو ہماری طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔اس مقدس سلسلہ شہادت کی ابتدائی کڑی حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے شروع ہوتی ہے۔اور حضرت شیخ محی الدین ابن عربی اور حضرت شیخ احمد سرہندی مجد دالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نوراللہ مرقدہ جیسی عظیم الشان ہستیوں کے دور میں سے گزرتے ہوئے بالآخر مدرسۃ العلوم دیو بند کے واجب الاحترام بانی مولا نا محمد قاسم صاحب نانوتوی مرحوم کے وجود میں آکر ختم ہوتی ہے۔اور یہ وہ زمانہ ہے جس کے معا بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک غیر تشریعی امتی نبی کے وجود کو تسلیم کرنے کی وجہ سے ہمیں کافر اور مُرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جاتا ہے تو ہمارے مخالف ان بزرگ ہستیوں کے متعلق کیا کہیں گے جو کم و بیش وہی عقائد ظاہر کرتے رہے ہیں جو ہم کرتے