ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 154 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 154

۱۵۴ لانه اراد الا نبى ينسخ شرعه - (در منثور و تکمله مجمع الجار صفحه ۸۵) یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو یہ فرمایا ہے کہ لو گو تم یہ تو کہا کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں مگر یہ نہ کہا کرو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں یہ بات حضرت عیسی کے نزول کے پیش نظر کہی گئی ہے۔اور یہ قول حدیث لا نبی بعدی کے خلاف نہیں۔کیونکہ اس حدیث سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف یہ منشاء تھا کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو میری شریعت کو منسوخ کرے۔مطلقا نبوت کا بند ہونا مراد نہیں تھا۔“ امام محمد مظاہر کا یہ لطیف حوالہ اس معاملہ میں دوہری شہادت پیش کر رہا ہے:۔(اوّل) یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف شریعت والی نبوت کا دروازہ بند ہے۔ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند نہیں۔(دوم) یہ کہ اسلام میں جس مسیح موعود کے نزول کی پیشگوئی پائی جاتی ہے وہ خدا کا نبی ہوگا۔لیکن چونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہوگا اس لئے اس کا آنا حدیث لا نبی بعدی کے منشاء کے خلاف نہیں۔یہ دونتائج بعینہ وہی ہیں جو مسئلہ ختم نبوت کے تعلق میں جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔مگر افسوس کہ ان بزرگوں کی شہادت کے باوجود ہمیں اِن خیالات کی وجہ سے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جاتا ہے اور اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ اس حوالہ میں تو حضرت عیسی کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے چھ سو سال قبل بنی اسرائیل کی قوم میں گزرے تھے تو یہ ایک دو ہر اظلم ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ