ختم نبوت کی حقیقت — Page 128
۱۲۸ حديث ثَلَاثُونَ دَجَّالُونَ کی تشریح اب میں منفی قسم کی حدیثوں میں سے آخری حدیث کو لیتا ہوں جس میں حقیقہ تو ہمارے عقیدہ کے خلاف کوئی بات نہیں لیکن نادان لوگ اسے حسب عادت استہزاء کا آلہ بنا لیا کرتے ہیں۔اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سیکون فی امتى ثلاثون كذابون و فى رواية ثلاثون دجالون) كُلّهم يزعم انه نبى و انا خاتم النبین لا نبی بعدی یعنی عنقریب میری اُمت میں تیس کذاب اور دجال پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ دعوی کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں تو خاتم النبیین ہوں میرے بعد ( یعنی میرے مقابل پر) کوئی نبی نہیں۔‘ اس حدیث کو پیش کر کر کے ہمارے مخالف مولوی صاحبان شور مچایا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر مدعی ثبوت دجال اور کذاب ہے۔اور نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود بائی سلسلہ احمدیہ کو اس حدیث کا مصداق قرار دیکر بزعم خود طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں لیکن جیسا کہ ابھی ظاہر ہو جائے گا یہ اعتراض جہالت کا ایک سطحی اُبال ہے۔جو محض جلد بازی اور کوتاہ نظری سے جنم لیکر پیدا ہوا ہے ورنہ اسے حضرت مسیح موعود کے دعوئی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اس کے متعلق سب سے پہلی بات تو یہ یا درکھنی چاہئیے کہ جیسا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث کے آخر میں انا خاتم النبین اور لا نبی بعدی کے الفاظ استعمال کر کے صریح اشارہ فرما دیا ہے اِس جگہ صرف ایسے مدعیانِ نبوت مراد ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ قرار دے کر اور آپ کے دور نبوت کو کاٹ کر کسی نئے دین اور نئی شریعت کے لانے کے مدعی ہوں۔پس مقدس بانی سلسلہ احمدیہ کا