ختم نبوت کی حقیقت — Page 10
سورج سے روشنی لے رہا ہے اور جب تک وہ سورج کے گرد گھوم رہا ہے اس وقت تک اس کا کمال خودشورج کا کمال ہے نہ کہ اس کی ذات کا کمال۔کیونکہ وہ ظل ہے نہ کہ اصل، تابع ہے نہ کہ آزاد ! اور پھر سوچو اور سمجھو کہ کیا سورج کا زیادہ کمال پہلی اور دوسری اور تیسری راتوں کے چاند پیدا کرنے میں ہے یا کہ چودھویں رات کا چاند پیدا کرنے میں جو اُسی کا نور لے کر آتا اور اسی کی شکل میں ظاہر ہوتا اور اپنی تیز روشنی کے ساتھ سارے جہاں کو منور کر دیتا ہے؟ اختلاف کا مرکزی نقطہ بہر حال یہ وہ مرکزی نقطہ ہے جس کی گہرائیوں میں آج کل جماعت احمد یہ اور اس زمانہ کے دیگر عام مسلمانوں کا اختلاف مرکوز ہے۔ہمارے مخالف مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا نہ تشریعی اور نہ غیر تشریعی۔نہ ظلی اور نہ مستقل، نہ تابع اور نہ آزاد۔( گو ہمارے مخالفین اپنے ہی عقیدہ کے خلاف حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان سے اُتار کر ان کی نبوت کی گڑی بہر حال قائم رکھنا چاہتے ہیں۔) اس کے مقابل پر ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت آخری شریعت ہے اور آپ کے بعد کوئی تشریعی یا مستقل نبی ہرگز نہیں آسکتا اور یہ دروازہ قیامت تک بند ہے مگر آپ کے ٹور سے ٹور پا کر اور آپ کا ظل بن کر اور آپ کی شریعت کا خادم ہو کر ایک شخص اُسی طرح نبوت کے کمالات حاصل کر سکتا ہے جس طرح کہ چودھویں رات کا چاند سورج سے روشنی پاکر اور سورج کے تابع ہوکر اور گو یا سورج کے ساتھ بندھا ہؤا نکلتا ہے ایسے چاند کے طلوع کو کوئی عقلمند انسان سورج کے لئے موجب ہتک نہیں سمجھ سکتا۔