ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 9 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 9

۹ کے لئے مختلف طاقت کی روشنیاں مقدر تھیں۔اور ہمارا ایمان ہے کہ گو ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام خلفاء اور سارے مجد دخدا کے فضل سے رُوحانی چاندوں کا حکم رکھتے ہیں اور ہم ان سب کو دلی عزت اور دلی عقیدت اور دلی محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔مگر جس چاند نے چودھویں صدی میں طلوع کیا ہے وہی وہ بدر منیر ہے جس نے اپنے شورج کی صورت اختیار کر کے اس کی طرف سے ظلی نبوت کا خلعت پایا ہے۔اور یہ وہ نقطہ ہے جہاں سے ہمارا اور ہمارے مخالفین کا اختلاف شروع ہوتا ہے۔جماعت احمد یہ اور دوسرے مسلمانوں کے اختلاف کی حقیقت اس اختلاف کی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مخالف یعنی اس زمانہ کے مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ بے شک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سورج سے روشنی پا کر پہلی رات کا چاند بن سکتا ہے، دوسری رات کا چاند بن سکتا ہے، تیسری رات کا چاند بن سکتا ہے، حتی کہ گیارہویں، بارھویں اور تیرھویں رات کا چاند بھی بن سکتا ہے۔مگر نہیں بن سکتا تو چودھویں رات کا چاند نہیں بن سکتا۔کیونکہ چودھویں رات کا چاند اپنی گولائی کے دائرہ کو مکمل کر کے گو یا سورج کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اور ایسے چاند کے طلوع کرنے میں خدائی سورج کی ہتک ہے۔افسوس صد افسوس کہ یہ کتنا باطل خیال ہے کہ روشنی کو تاریکی اور خوبی کو نقص اور عزت کو موجب ہتک خیال کیا جاتا ہے! خدا ہمارے ان بھٹکے ہوئے دوستوں کی آنکھیں کھولے۔کیا اس مادی عالم میں چودھویں رات کا چاند سورج کی ہتک کا موجب ہوتا ہے کہ ہمارے یہ کرم فرما اصحاب رُوحانی عالم میں چاند کے طلوع کو شورج کی ہتک کا موجب قرار دے رہے ہیں؟ بھائیو سنو اور دیکھو کہ جب تک چاند سورج کے تابع ہے اور جب تک وہ