ختم نبوت کی حقیقت — Page 107
شہادت بھی اسی کی تائید میں ہے کیونکہ دنیا کی تاریخ میں کثیر تعداد ایسے نبیوں کی نظر آتی ہے جنہیں کوئی نئی شریعت نہیں دی گئی بلکہ وہ صرف سابقہ شریعت کی خدمت اور لوگوں کی ایمانی اور عملی اصلاح کے لئے مبعوث کئے جاتے تھے۔جیسا کہ حضرت موسیٰ کے بعد حضرت داؤد اور سلیمان اور زکریا اور بیحی علیہم السلام مبعوث ہوئے اور عقلا بھی یہی بات درست معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ نبیوں کا سلسلہ جاری کرنے میں خدا تعالیٰ کی اصل غرض اصلاح خلق ہے خواہ یہ اصلاح نئی شریعت کے نزول کے ذریعہ ہو یا کہ سابقہ شریعت کی تجدید کے ذریعہ ہو۔پس اس قطعی فیصلہ کے ہوتے ہوئے جس پر قرآن مجید اور حدیث اور تاریخ اور عقل سب کی متفقہ شہادت ثبت ہے یہ خیال ہر گز نہیں کیا جاسکتا کہ امام شعرانی یا کسی اور ذمہ دار بزرگ کا یہ عقیدہ ہو سکتا ہے کہ ہر نبی کے لئے نئی شریعت کا لانا ضروری ہے۔بلکہ اغلب یہ ہے کہ ہماری اصطلاح کے مطابق جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں (ولک“ ان يصطلح ) امام صاحب کا عقیدہ بھی یہی ہوگا کہ دراصل حقیقی نبوت صرف شریعت والی نبوت ہوتی ہے، کیونکہ لازما اسی سے ہر سلسلہ نبوت کا آغاز ہوتا ہے اور نبوت کی باقی اقسام اس کے پیچھے آتی ہیں نہ یہ کہ باقی اقسام نبوت کی اقسام ہی نہیں ہوتیں۔الغرض لا نبی بعدی کی حدیث بالکل برحق ہے اور ہم اسے پورے شرح صدر کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ بالکل بند ہے۔بلکہ اس کا منشاء صرف یہ ہے کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا دامن قیامت تک پھیلا ہوا ہے اس لئے آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے یا آپ کی اُمت میں سے نہ ہو۔بلکہ وہی اور صرف وہی آسکتا ہے جس کا رستہ خاتونِ جنت اُم المومنین