ختم نبوت کی حقیقت — Page 8
د یعنی اگر کسی زمانہ میں ایمان دُنیا سے غائب ہو کر ثریا ستارے پر بھی چلا گیا تو پھر بھی ان اہلِ فارس لوگوں میں سے ایک شخص اسے دوبارہ زمین پر اُتار لائے گا اور ایک دوسرے موقع پر آپ نے فرمایا کہ:۔سلمان منا اهل البيت (طبرانی کبیر و مستدرک حاکم بحوالہ جامع الصغیر) 66 د یعنی سلمان فارسی ہمیں میں سے یعنی ہمارے اہل بیت میں سے ہے۔اس حدیث میں یہ اشارہ تھا کہ آنے والے مسیح و مہدی نے اہل فارس میں سے ہونا تھا اور اس طرح ضمنا وہ دوسری پیشگوئی بھی پوری ہوگئی جو مہدی کے متعلق کی گئی تھی کہ وہ اہلِ بیت میں سے ہوگا۔رُوحانی شورج کا رُوحانی چاند بہر حال ان قرآنی آیات اور ان احادیث سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ امت محمدیہ میں رُوحانی خلفاء کا وجود ازل سے مقدر ہو چکا تھا۔اور ان سب خلفاء نے على قدر مراتب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے نور سے روشنی حاصل کر کے دُنیا کو اسی طرح منوّر کرنا تھا جس طرح کہ اس مادی عالم میں خدا کا بنایا ہو ا چاند اُس کے سُورج سے روشنی حاصل کر کے زمین کو منور کرتا ہے اور پھر جس طرح کہ مختلف راتوں کے چاند مختلف طاقتوں کی روشنیاں لے کر طلوع کرتے ہیں اسی طرح رُوحانی عالم میں بھی ہمارے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نور حاصل کرنے والے اور آپ کے گردگھومنے والے چاندوں