ختم نبوت کی حقیقت — Page 97
۹۷ لئے اس جگہ تمام متقین نے بالاتفاق لکھا ہے کہ ان الفاظ کے استعمال کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء یہ نہیں تھا کہ جب یہ موجودہ قیصر و کسری مر جائیں گے تو اُن کے بعد کوئی اور قیصر و کسری ہوں گے ہی نہیں بلکہ مطلب صرف یہ تھا کہ ان کے بعد اس رُتبہ اور اس شان اور اس قسم کی وسیع حکومت والے قیصر و کسری نہیں ہوں گے ( مثال کے لئے دیکھو فتح الباری جلد 4 صفحہ ۴۰۷) بعینہ اسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ فرمائے کہ لا نبتی بعدی ( یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں ) تو اس سے بھی آپ کا منشاء صرف یہ تھا کہ میرے بعد میری طرح کا کوئی صاحب شریعت نبی یا مستقل نبی نہیں ہوگا۔نہ یہ کہ مطلقا کوئی نبی ہوگا ہی نہیں۔اس خیال کی تشریح کے لئے آپ نے گویا خود مثال دیکر وضاحت فرما دی کہ دیکھو جس طرح میں نے لانبی بعدی کے الفاظ استعمال کئے ہیں بعینہ اسی طرح میں نے اذا هلك قيصر فلا قیصر بعدہ کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں۔پس جس طرح لا قیصر بعداللہ کے معنی محدود تھے اور مراد صرف یہ تھی کہ اس موجودہ قیصر کے بعد کوئی اس رتبہ کا یا اس قسم کا قیصر نہیں ہوگا۔اسی طرح لا نبی بعدی کے معنی بھی محدود ہیں۔اور مراد یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی میری طرح کا صاحب شریعت اور مستقل حیثیت رکھنے والا نہیں ہوگا۔یہ ایک اتنی صاف اور سیدھی بات ہے کہ کوئی دانا انسان اس میں شبہ نہیں کر سکتا۔بغدمی کے لفظ کی تشریح علاوہ ازیں اس حدیث میں بغدی ( یعنی میرے بعد ) کا لفظ بھی خاص طور پر قابل غور ہے۔اس کے متعلق جاننا چاہئیے کہ عربی زبان میں بعد کا لفظ تین مختلف معنوں میں