ختم نبوت کی حقیقت — Page 91
۹۱ نکالا جائے۔یعنی یہ فیصلہ کیا جائے کہ جن حدیثوں میں نبوت کے اجراء کا اقرار ہے اُن میں رکن معنوں میں اقرار ہے۔اور جن حدیثوں میں نبوت کے اجراء کا انکار ہے اُن میں کن معنوں میں انکار ہے تا اس ذریعہ سے کسی لمبی بحث کے بغیر دونوں قسم کی حدیثوں کو قبول کرنے کا رستہ نکل آئے۔قرآن کا فیصلہ ہمارے حق میں ہے یہی وہ دو امکانی طریق ہیں جن سے ہم اس ظاہری تضاد کو دُور کر سکتے ہیں اور ہر نیچے مسلمان کا فرض ہے کہ اس اہم معاملہ میں جو ایمانیات سے تعلق رکھتا ہے، انتہائی سنجیدگی اور دیانتداری کے ساتھ غور کر کے اس اُلجھن کے حل کا رستہ نکالے۔قرآن مجید کا رستہ تو بالکل صاف ہے۔کیونکہ جیسا کہ میں اس رسالہ کے شروع میں بیان کر چکا ہوں قرآن مجید کی کوئی ایک آیت یا کسی آیت کا کوئی مجزو بھی ایسا نہیں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کے سلسلہ کو بند قرار دیا گیا ہو۔بلکہ ہر جگہ یہی مضمون چل رہا ہے کہ ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدائی نعمتوں اور خُدائی رحمتوں کے دروازے پہلے سے بھی بہت زیادہ فراخ ہو کر گھل گئے ہیں۔لے دے کے ہمارے مخالفین صرف ایک آیت خاتم النبیین پیش کیا کرتے ہیں۔مگر اس آیت کے متعلق ہم ثابت کر چکے ہیں کہ اس میں بھی سلسلہ نبوت کا بند ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔بلکہ صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ جو انعام پہلے نبیوں کو براہِ راست ملا کرتے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارفع مقام اور مکمل فیضان کی وجہ سے آپ کے بعد آپ کی پیروی اور شاگردی اور آپ کی مہر تصدیق کے ساتھ ملا کریں گے۔اور یہ بعینہ وہی نظریہ ہے جو ہم