ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 85 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 85

۸۵ اور دُوسری جگہ فرماتے ہیں:۔جیسا کہ مجد د صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگر چہ اِس اُمت کے بعض افراد مکالمہ مخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت اُمور غیبیہ اُس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹۰) پس اگر لم يبق من النبوة إلا المبشرات ( یعنی اب نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں ) والی حدیث کو عام بھی سمجھا جائے تو تب بھی اس سے مُراد اصولی رنگ میں صرف یہ ہے کہ آئندہ کوئی شریعت والا نبی نہیں آسکتا بلکہ صرف غیر تشریعی امتی نبی آسکتا ہے جس کی نبوت صرف مبشرات ومنذرات تک محدود ہو۔امت محمدیہ کے خواص میں الہام کا سلسلہ اس حدیث کے متعلق یہ بات بھی یا درکھنی چاہئیے کہ اس حدیث میں مبشرات کی جو تشریح الرؤيا الصالحة کے لفظ سے کی گئی ہے وہ صرف عام مومنوں کو مد نظر رکھ کر ہے ورنہ جیسا کہ اسلام کی تاریخ میں ہزاروں اولیاء اور صلحاء کی عملی شہادت سے ثابت ہے یہ مراد ہر گز نہیں کہ نعوذ باللہ اس خیر امت کے حصہ میں اب صرف خوا ہیں ہی رہ گئی ہیں۔اور آئندہ کوئی شخص کشف اور الہام وغیرہ سے حصہ نہیں پاسکتا۔چنانچہ سُنن ابنِ ماجہ کی شرح میں امام ابو الحسن الرؤيا الصالحة کے لفظ کی تشریح کرتے