ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 77 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 77

وہاں نئی قسم کی مشکلات پیش آئیں گی۔۔اور پھر مسیح نبی اللہ اور اس کے صحابی دوبارہ خدا کے حضور دُعا کرتے ہوئے جھکیں گے اور خُدا اُن کی مشکلات کو دُور فرما دے گا۔وغیرہ وغیرہ۔“ اس لمبی حدیث میں جسے مفصل نقل کرنے کی اس جگہ گنجائش نہیں ( مگر وہ یقیناً آخری زمانہ کے فتنوں اور آنے والے مسیح کے متعلق ہے جیسا کہ ہر شخص اصل حدیث کو پڑھ کر فیصلہ کر سکتا ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی جملہ کے اندر مسیح موعود کے متعلق چار دفعہ نبی اللہ کا لفظ استعمال فرماتے ہیں۔یہ طریق کلام بھی ابو داؤد کی حدیث کی طرح یقیناً غیر معمولی ہے اور اس میں بھی سوائے اس انتباہ کے کوئی اور غرض نہیں تھی کہ بیشک میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو میرے فیض سے آزاد ہو کر آئے یا میری شریعت کو منسوخ کرے لیکن چونکہ آنے والا مسیح میرا ہی رُوحانی فرزند اور میرا ہی ظل ہو گا اسلئے اُس کا آنا ختم نبوت کے منافی نہیں کیونکہ وہ میرے ہی فیض سے فیض یافتہ ہو گا۔اور اُس کی نبوت میری ہی نبوت کا حصہ ہوگی۔پس تم اس کی نبوت میں شک نہ کرنا۔کیونکہ شاخ اپنی جڑ سے جُدا نہیں اور نہ ہی ظل اپنے اصل سے الگ ہے۔اسی غرض کے ماتحت آپ نے غیر معمولی طور پر ایک ہی فقرہ میں آنے والے مسیح کو چار دفعہ نبی اللہ کے نام سے یاد کیا ہے۔لاریب یہ طریق کلام خاص حکمت پر مبنی ہے۔اور وہ حکمت یہی ہے کہ تا آئندہ پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کے پیش نظر امت محمدیہ کو ہو شیار کر دیا جائے کہ دیکھنا دیکھنا ٹھوکر نہ کھانا اور جلد بازی میں کسی صادق کا انکار نہ کر بیٹھنا۔ورنہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایک ہی جگہ ایک ہی فقرہ میں مسیح موعود کو بظاہر بلاضرورت چار دفعہ نبی اللہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور نہ کسی