ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 65 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 65

اسلام کی لہر دار تاریخ کا خلاصہ یہ لطیف حدیث اسلام کی لہر دار تاریخ کا ایک دلچسپ اور مکمل خلاصہ پیش کر رہی ہے۔اور ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے کمال حکمت سے ہر دور کا علیحدہ علیحدہ نقشہ کھینچنے کے لئے ایسے نادر الفاظ چنے ہیں جنہوں نے حقیقتہ دریا کو کوزے میں بند کر کے رکھ دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے نبوت کا دور ہے جو گویا اس سارے نظام کا مرکزی نقطہ ہے۔اس کے بعد خلافت کا دور آئے گا۔مگر خلافت سے مراد عام خلافت نہیں جس میں کہ بعض اوقات سینہ زوری سے جابر حکمرانوں کا نام بھی خلیفہ رکھ دیا جاتا ہے بلکہ خلافت علی منہاج النبوة مراد ہے۔یعنی وہ خلافت جو ایک سچے نبی کے بعد اس کے کام کی تکمیل کے لئے خُدا کی طرف سے قائم کی جاتی ہے۔اور گویا نبوت کا تتمہ ہوتی ہے (جیسا کہ ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کی خلافت قائم ہوئی۔) اس کے بعد آپ نے ملكًا عاضًا کا دور بیان فرمایا ہے جو گویا کاٹنے والا اور ظلم ڈھانے والا دور تھا۔یہ وہ دور تھا جس میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر گوشہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور خاندانِ نبوت کے کئی دوسرے مقدس افراد ظلم کا شکار ہو گئے۔اور اسی دور میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عالی مرتبہ نواسہ حضرت عبد اللہ بن زبیر بھی شہید کئے گئے۔اور یہی وہ دور تھا جس میں حجاج بن یوسف کی خون آشام تلوار نے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو تہ تیغ کر کے رکھ دیا۔پس لا ریب یہ دور ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں ملحا عاضًا کا پورا پورانمونہ تھا۔جس میں گو یا ظالموں کے خونی دانت پاکبازوں کا گوشت کاٹنے اور بوٹی بوٹی کرنے