ختم نبوت کی حقیقت — Page 25
۲۵ باقی رہی آیت خاتم النبیین سواس کے متعلق ہم انشاء اللہ ابھی ثابت کریں گے کہ اس سے بھی ہرگز وہ مطلب نہیں نکلتا جو ہمارے مخالفین سراسرسینہ زوری کیسا تھ اس کی طرف منسوب کرنا چاہتے ہیں۔بلکہ یہ آیت بھی دوسری بیسیوں آیتوں کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے نظیر برکات اور عدیم المثال فیوض کا ایک وسیع دروازہ کھول رہی ہے جسے ہمارے مہربان دوست اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے دیکھنے اور شناخت کرنے کے لئے تیار نہیں۔پس قرآنی کسوٹی کے مطابق ہماری پہلی دلیل تو یہ ہے کہ قرآن مجید کی کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں جو نبوت کا دروازہ بند کرتی ہو یا آیت خاتم النبیین کے ان معنوں کی مؤید ہو جو ہمارے مخالف بیان کرتے ہیں۔حالانکہ قرآنی اصول کے مطابق اگر آیت خاتم النبیین کے واقعی وہی معنی تھے جو اس زمانہ کے مولوی صاحبان اس کی طرف منسوب کرتے ہیں تو قرآن مجید کو چاہیئے تھا کہ اپنی بہت سی دوسری آیتوں میں اس مضمون کو مختلف صورتوں میں دُہرا کر اس پر دلائل اور شواہد کا ایک شورج چڑھا دیتا مگر معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ قرآن مجید پکار پکار کر گواہی دے رہا ہے کہ ہمارے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدائی نعمتوں اور برکتوں کا دروازہ پہلے سے بھی بہت زیادہ وسیع ہو گیا ہے۔کاش برادرانِ اسلام اس نکتہ کو سمجھیں! سورہ فاتحہ کی زبردست شہادت اس کے بعد میں اُس قرآنی آیت کو لیتا ہوں جو قرآنِ مجید کی افضل ترین سورۃ میں بیان کی گئی ہے۔قرآن مجید ہمیں اپنی سب سے پہلی سورۃ میں یہ عظیم الشان دُعا