ختم نبوت کی حقیقت — Page 24
۲۴ یعنی ہم قرآن میں ایک مضمون کو بار بار مختلف شکلوں اور مختلف صورتوں میں بیان کرتے ہیں تا کہ لوگ سمجھ سکیں اور غلطی میں مبتلا نہ ہوں۔“ پس قرآن مجید کا اس اہم مضمون پر صرف ایک آیت وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ البين بیان کر کے بالکل خاموش ہو جانا اور کسی دوسری جگہ اُس مضمون کو نہ دُہرانا جو ہمارے مخالف خیال اصحاب اس آیت سے نکالنا چاہتے ہیں۔بلکہ جا بجا اس کے خلاف بیان کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کو سارے دوسرے نبیوں سے زیادہ وسیع لتبتين اور بالا اور ارفع رنگ میں پیش کرنا اس بات کی قطعی اور یقینی دلیل ہے کہ آیت خاتم اللہ کے وہ معنی ہرگز درست نہیں جس کے ذریعہ ہمارے بھٹکے ہوئے دوست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض اور برکات اور آپ کے بعد خدائی نعماء کے ظہور کو محدود اور محصور کرنا چاہتے ہیں۔قرآن مجید کی کوئی آیت نبوت کا دروازہ بند نہیں کرتی بہر حال ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ آیت خاتم النبیین کے علاوہ (جو اس وقت خُودزیر بحث ہے اور ہم ابھی ثابت کریں گے کہ اس آیت کے بھی وہ معنی ہرگز نہیں جو ہمارے مخالفین بیان کرتے ہیں) قرآن مجید میں کوئی ایک آیت یا کوئی ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے ہمارے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہونا ثابت ہوتا ہو۔بلکہ اس کے خلاف جا بجا یہ بیان موجود ہے کہ سرور کائنات فخر موجودات سید ولد آدم حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدائی نعمتوں اور رحمتوں اور برکتوں کے دروازے پہلے سے بھی بہت زیادہ وسیع صورت میں گھل گئے ہیں۔