ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 149 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 149

۱۴۹ اس قسم کی نبوت کا نام نبوت عامہ رکھتے ہیں۔(سوم) یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی آئے گا وہ بہر حال آپ کی شریعت اور آپ کے فرمان کے تابع ہوگا۔(چہارم) یہ کہ نبوت کے متعد دا جزاء ہیں اور شریعت کا نزول ان اجزاء میں سے ایک جزو ہے نہ یہ کہ شریعت ہی میں نبوت ہے۔یہ وہ چارا ہم نتائج ہیں جو اوپر کے حوالوں سے قطعی طور پر ثابت ہوتے ہیں۔اور اگر کسی شخص کو ہمارے ترجمہ کے متعلق شک ہوتو وہ اپنے کسی مولوی سے ترجمہ کر کے خود تسکی کر سکتا ہے۔اب دیکھو کہ یہ حوالے کتنے واضح اور کتنے صاف ہیں! حضرت شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف شریعت والی نبوت کا دروازہ بند کیا ہے اور چونکہ شریعت صرف جزر و نبوت ہے نہ کہ عینِ نبوت اسلئے آپ کے بعد نبوت عامہ کا دروازہ کھلا ہے اور کبھی بند نہیں ہو گا۔اور یہ کم وبیش وہی بات ہے جو ہم کہتے ہیں۔لیکن چونکہ اکثر لوگ اپنے قائم شدہ عقیدہ کے خلاف کسی خیال کو قبول کرنے کے لئے جلدی تیار نہیں ہوتے اور بات بات پر شبہ پیدا کرنے کا طریق اختیار کرتے ہیں۔اس لئے اس موقع پر بھی بعض اصحاب کی طرف سے یہ شبہ پیدا کیا گیا ہے کہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی نے اس جگہ نبوت عامہ سے صرف ولایت کا مقام مرا دلیا ہے اور یہ کہ ان کا اصل عقیدہ یہی تھا کہ ہر نبی کے لئے شریعت کالا نا ضروری ہے۔اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی اور شریعت نہیں اس لئے آپ کے بعد حقیقی معنوں میں کوئی نبی بھی نہیں آسکتا۔اس شبہ کے جواب میں اصولی طور پر تو یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ ہم نے حضرت شیخ اکبر یا کسی اور بزرگ کو بلینک چیک نہیں دیا ہوا کہ یا ہمارے لئے ان کی ہر بات BLANK CHEQUE