ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 89 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 89

۸۹ یہ ان حدیثوں کا خلاصہ ہے جن سے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ گلی طور پر بند ہو چکا ہے۔میں اس جگہ ان حدیثوں کی صحت اور عدم صحت کی بحث میں تو نہیں جاؤں گا۔کیونکہ یہاں اس قسم کی تفصیلی بحث کی گنجائش نہیں لیکن جیسا کہ میں انشاء اللہ ابھی ثابت کروں گا ان حدیثوں سے وہ نتیجہ نکالنا ہرگز درست نہیں جو ہمارے مخالف خیال اصحاب نکالا کرتے ہیں۔بلکہ اگر غور کیا جائے تو ان حدیثوں سے بھی صرف یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ شریعت والی نبوت اور مستقل نبوت تو بے شک حضور خاتم النبین کی بعثت کے بعد ختم ہو چکی ہیں لیکن ظلی نبوت جو محمد می نبوت ہی کا پر تو اور عکس ہے اور گویا اسی کا حصہ ہے وہ ہرگز بند نہیں ہوئی۔اور ان حدیثوں میں سے کوئی ایک حدیث بھی ایسی نہیں جو اس قسم کی ظلی نبوت کا دروازہ بند کرتی ہو۔مگر علیحدہ علیحدہ حدیثوں کی بحث شروع کرنے سے پہلے میں ایک مجموعی نوٹ کے ذریعہ اپنے ناظرین کو ایک اصولی بات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔جس سے انشاء اللہ اس مسئلہ کے حل کا ایک سہل اور آسان رستہ گھل جائے گا۔حدیثوں کے تضاد کو دُور کرنے کا طریق وہ اُصولی امر یہ ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کی بحث میں کچھ حدیثیں ہماری طرف سے پیش کی جاتی ہیں۔جن سے نبوت کے دروازہ کا گھلا ہونا ثابت ہوتا ہے۔اور کچھ حدیثیں ہمارے مخالفین کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں۔جن سے اس دروازہ کا بند ہونا ظاہر ہوتا ہے۔بظاہر یہ ایک بھاری تضاد ہے جو اگر حل نہ ہو سکے تو ہمارے آقا سرورِ کائنات فخر موجودات سید ولد آدم (فداہ نفسی ) کے متعلق یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ