ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 87 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 87

۸۷ دی گئی تھی۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جیسا کہ ہمارے ناظرین کو معلوم ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر انجیل نازل ہوئی تھی اور انجیل کے معنی جیسا کہ ہر لغت کی کتاب میں لکھا ہے ” بشارت“ کے ہیں۔(مثلاً دیکھو اقرب الموارد وغیرہ)۔گویا حضرت عیسی کی نبوت جو غیر تشریعی رنگ کی تھی ایک ایسے کلام الہی کی حامل تھی جسے خُدا نے بشارت کا نام دیا ہے۔پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما یا کہ لھ يبق من النبوة إلا المبشرات ( یعنی اب نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں ) تو آپ نے اس میں یہ لطیف اشارہ فرمایا تھا کہ میں تو جاتا ہوں اب تم میرے بعد انجیلی بشارت والے موسوی مسیح کی طرح مبشرات والے محمد سی مسیح کی راہ دیکھنا جو میرے قدموں پر میرے ہی ٹور سے ٹور پاکر مبعوث ہوگا۔دیکھو یہ کیسا لطیف کلام ہے جو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے نکلا۔گویا آپ نے دوسرے الفاظ میں مثیل مسیح والی پیشگوئی کو ہی دُہرا کر فرما دیا کہ جس طرح حضرت موسیٰ کے بعد موسوی شریعت کی خدمت کے لئے مسیح ناصری آیا تھا جسے انجیل کی بشارات دی گئی تھیں اسی طرح آخری زمانہ میں قرآنی شریعت کی خدمت کے لئے ایک محمدی مسیح آئے گا اور اُسے بھی مسیح ناصری کی طرح مبشرات عطا کی جائیں گی۔خلاصہ کلام یہ کہ قریب کے زمانہ کے لئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مبشرات کی تشریح میں رویا صالحہ کے الفاظ فرمائے تا قرب زمانی کی وجہ سے قرآنی وحی کے ساتھ کسی دوسری وحی کا خلط نہ واقع ہو اور دُور کے زمانہ کے لئے اسی لفظ میں مثیل مسیح کے نزول کی طرف اشارہ فرما دیا۔کاش ہمارے مخالف اصحاب اپنے سطحی استدلالوں کو چھوڑ کر ان لطیف حقائق پر غور فرمائیں جن سے قرآن وحدیث بھرے پڑے ہیں۔