ختم نبوت کی حقیقت — Page 71
مقتداء حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے کس عشق و محبت کے ساتھ فرمارتے ہیں کہ:۔اُس نور پر فدا ہوں اُس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے الغرض اس حدیث میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں ایک خلقی نبی پیدا ہوگا۔اور اس نبی کے قدموں میں پھر دوبارہ خلافت علی منھاج النبوۃ قائم کی جائے گی۔مگر نبوت کے ذکر کو اس لئے پس پردہ رکھا گیا ہے کہ تا اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا جائے کہ یہ نبوت دراصل رسُولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہی کی ظلت اور حصہ ہوگی نہ کہ کوئی آزاد یا مستقل نبوت۔مگر افسوس صد افسوس کہ نادان لوگوں نے ان پر حکمت حقائق کی طرف سے آنکھیں بند کر کے انہی لطیف کنایات کو اعتراض کا نشانہ بنارکھا ہے۔حدیث میں آنے والے مسیح کو نبی کے نام سے پکارا گیا ہے اب میں ایک ایسی حدیث کو لیتا ہوں جس میں صریح طور پر آنے والے مسیح کا نام نبی رکھا گیا ہے اور ہمارے آقا (فداہ نفسی ) نے اُسے خود اپنی زبانِ مبارک سے نبی کے نام سے پکارا ہے۔چنانچہ صحیح حدیث میں آتا ہے:۔عن ابي هريرة قال قال رسول الله صلى اللہ علیہ وسلّم لیس بینی وبينه نبى يعنى عيسى و انه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه- رجل مربوع الى الحمرة والبياض۔فيقاتل الناس على