ختم نبوت کی حقیقت — Page 66
میں لگے ہوئے تھے۔۶۶ اس کے بعد حدیث زیر نظر میں ملكًا جبریة کا دور بیان کیا گیا ہے۔یعنی ایسی بادشاہت جس میں خواہ سابق دور کی طرح انتہائی ظلم وستم کا رنگ نہ ہو مگر وہ اسلام کے جمہوری نظام پر قائم نہیں ہوگی۔بلکہ جبری اور استبدادی رنگ کی حکومت ہوگی جس میں حاکم لوگ پبلک کی صحیح نمائندگی کے بغیر محض ورثہ کی بناء پر یا طاقت کے زور سے حکمران بن جایا کریں گے۔چنانچہ اسلام میں یہ جبری دور حکومت صدیوں تک چلا۔اور خواہ اس میں یزید بن معاویہ اور حجاج بن یوسف کے سے ظلم نہیں ہوئے مگر بہر حال وہ ایک جبری اور استبدادی رنگ کا دور تھا۔جس میں صحیح اسلامی نظام مفقود ہو چکا تھا۔نبوت اور خلافت کا دور ثانی اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر دوبارہ خلافت علی منہاج النبوۃ کا دور قائم ہو جائے گا۔یعنی اللہ تعالی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں سے کسی بندہ درگاہ کوظلی اور بروزی نبوت کے خلعت سے نواز کر اس کے ذریعہ پھر صحیح خلافتِ اسلامی کا سلسلہ شروع کر دیگا۔اب دیکھو کہ یہ لطیف حدیث اپنی دوسری کثیر التعداد لطافتوں کے ساتھ کیسے صریح اور واضح اور غیر مشکوک الفاظ میں یہ اعلان کر رہی ہے کہ جس طرح اسلام کا آغا ز خلافت على منهاج النبوة ( یعنی نبوت کے طریق پر خلافت) سے ہوا اسی طرح آخری زمانہ میں دوبارہ اسی رنگ کی خلافت قائم ہوگی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں سے ایک ظلی نبی مبعوث ہوگا اور اس کے قدموں پر دوبارہ خلافت کا دور دورہ شروع ہو جائے گا۔اور راوی بیان کرتا ہے