ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 49 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 49

۴۹ الطينة۔یعنی خاتم کے معنی اُس مہر کے ہوتے ہیں جو لاکھ یا مٹی یا کاغذ وغیرہ پر لگائی جاتی ہے۔جیسا کہ مثلاً حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر و کسری کو تبلیغی خطوط بھجواتے ہوئے اُن خُطوط پر اپنی تصدیقی مہر ثبت کی تھی۔اس لحاظ سے آیت کے یہ معنی بنتے ہیں کہ :۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے جسمانی باپ تو نہیں لیکن وہ رسول ہونے کے لحاظ سے مومنوں کے روحانی باپ ہیں بلکہ وہ نبیوں کی بھی مہر ہیں اور آئند ہ وہی شخص سچا نبی سمجھا جا سکتا ہے جسے آپ کی مہر اور تصدیق حاصل ہو۔“ اب دیکھو یہ معنی کتنے صاف اور کتنے واضح ہیں۔جسے ایک بچہ بھی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔اور پھر دیکھو کہ ان معنوں کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی بلندشان ثابت ہوتی ہے کہ آپ صرف عام رسول ہی نہیں بلکہ آپ کی مہر نبی تراش ہے اور آپ کی کامل پیروی اور روحانی تو جہ سے ایک شخص نبوت کے مقام تک پہنچ سکتا ہے۔اور اس طرح آپ گویا نبیوں کے بھی رُوحانی باپ ہیں۔الغرض اگر اس آیت میں ایک طرف آپ کی جسمانی اولاد کی نفی کی گئی ہے تو دوسری طرف لکین کا لفظ استعمال کر کے آپ کی رُوحانی اولاد کا اثبات کر دیا گیا ہے۔اور پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ کے ہاتھ میں نبی گری کی مہر دے کر آپ کو نبیوں کا بھی رُوحانی باپ قرار دے دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی یا درکھنا چاہیئے کہ مجاز کے طور پر خاتم کے معنی انگوٹھی کے بھی ہوتے ہیں ( تاج العروس ) اور چونکہ انگوٹھی زینت کا موجب ہوتی ہے اس لئے اس لحاظ سے خاتم النبیین کے معنی ایسے وجود کے ہوں گے جو گویا مجملہ انبیاء کے لئے موجب زینت ہے اور یہ معنی بھی اپنی جگہ بہت لطیف ہیں۔