ختم نبوت کی حقیقت — Page 40
امت محمدیہ میں رسولوں کی آمد کا صریح وعدہ اس کے بعد میں ایک ایسی قرآنی آیت کو لیتا ہوں جس میں اُمت محمدیہ میں صریح طور پر رسولوں کی آمد کا وعدہ دیا گیا ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے:۔يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُضُونَ عَلَيْكُمْ ايْتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (سورۃ اعراف آیت ۳۶) ” یعنی اے بنی آدم اگر آئندہ تمہارے پاس تمہیں میں سے خُدا کے رسول آئیں جو تم پر خدا کی آیات پڑھ کر سنائیں تو تم ہرگز انکار نہ کرنا بلکہ ایمان لے آنا کیونکہ جو لوگ رسولوں کی آمد پر تقویٰ اختیار کرتے اور اپنی اصلاح کرتے ہیں وہ خوف اور محزون سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تمام بنی آدم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اگر آئندہ کسی زمانہ میں تم میں تمہیں میں سے ( کیونکہ اب غیروں میں رسول مبعوث ہونے کا دروازہ بند ہو چکا ہے ) کوئی رسُول مبعوث ہو تو انکار نہ کرنا بلکہ خُدا کا تقوی اختیار کر کے اپنی اصلاح کی فکر کرنا کیونکہ یہی تمہارے لئے خوف وخون سے نجات پانے کا رستہ ہے۔اب دیکھو کہ یہ آیت کس صراحت اور وضاحت کے ساتھ اور کن زور دار الفاظ میں امت محمدیہ میں حسب ضرورت رسولوں کی آمد کا دروازہ کھول رہی ہے۔کاش لوگ ان حقائق پر غور کریں! اور اگر اس جگہ کسی شخص کو یہ شبہ ہو کہ یہ آیت گذشتہ قوموں کے متعلق ہے نہ کہ آئندہ