ختم نبوت کی حقیقت — Page 38
۳۸ کہ کوئی معمولی علم رکھنے والا انسان بھی اِس کا انکار نہیں کر سکتا۔اور حق یہ ہے کہ اس قسم کا محاورہ ہر زبان میں ملتا ہے جیسا کہ مثلاً اُردو میں بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص مسلم لیگ کے ساتھ ہے۔اور اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ لیگ سے الگ رہ کر صرف اس کی ظاہری اور جسمانی معیت اختیار کئے ہوئے ہے۔بلکہ اس سے لا زما یہی مراد ہوتی ہے کہ وہ مسلم لیگ کا ایک فرد ہے اور لیگ والوں میں شامل ہے۔مگر افسوس ہے کہ اس زمانہ کے مولوی صاحبان نے قرآن مجید میں تدبر کرنا بالکل چھوڑ دیا ہے اور محض سطحی باتوں یا منقولی قصوں میں الجھ کر بیٹھ گئے ہیں۔ورنہ اگر وہ ذرا غور سے کام لیتے تو اُن کے لئے مع کے لفظ پر اڑنے اور ٹھوکر کھانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔مع کا لفظ اختیار کرنے میں حکمت حق یہ ہے کہ مین کو چھوڑ کر مع کا لفظ اختیار کرنے میں ایک بڑی حکمت تھی اور وہ یہ کہ تا اس آیت میں مین اور مع دونوں کا مرکب مفہوم پیدا کیا جائے۔یعنی غرض یہ تھی کہ اس جگہ مع کا لفظ ایک ہی وقت میں مع اور من دونوں کے معنی دے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جیسا کہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں الاروائح جنود مُجدَةٌ یعنی رُوحوں کے بھی مختلف گروپ ہوتے ہیں۔“ اور ایک قسم کی رُوحیں اسی قسم کی رُوحوں کی طرف جھکتیں اور اُن کے ساتھ رابطہ اور اتحاد پیدا کرتی ہیں۔پس اس جگہ مین کا لفظ چھوڑ کر مع کا لفظ اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ تا اس لطیف حقیقت کی طرف اشارہ کیا جائے کہ یہ انعام پانے والے لوگ نبیوں اور صد یقوں اور شہیدوں میں شامل ہونے کے علاوہ اپنے اندر معیت کا مفہوم بھی پیدا کریں گے۔یعنی ہر طبقہ