ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 30 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 30

بالکل بے شود بلکہ مضحکہ خیز بن جاتا ہے پس اگر سورۂ نساء والی آیت نہ بھی ہو جس میں انعام پانیوالوں کے طبقات بیان کئے گئے ہیں تو پھر بھی محض اس دُعا کا سکھایا جانا ہی کہ ہمیں وہ انعامات عطا فرما جو تو نے پہلے لوگوں کو دیئے اس بات کا کافی و شافی ثبوت ہے کہ اُمتِ محمدیہ کے لئے تمام سابقہ امتوں والے انعاموں کا دروازہ کھلا ہے۔وھو المُراد۔رسول پاک کے بعد تشریعی اور مستقل نبوت کا دروازہ کیوں بند ہے؟ اس جگہ اگر کسی شخص کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ سابقہ امتوں کے انعاموں میں تو تشریعی نبوت اور مستقل نبوت بھی شامل تھیں لیکن باوجود اس کے اب اس قسم کی نبوتوں کا دروازہ بند ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل سوال مطلق نبوت کا ہے نہ کہ اس قسم یا اُس قسم کی نبوت کا۔اور مطلق نبوت کا دروازہ اب بھی گھلا ہے۔باقی رہا تشریعی نبوت اور مستقل نبوت کا سوال سو ہر شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ نبوت کی قسم کا سوال محض ایک انتظامی نوعیت کی چیز ہے جسے انعام کے پہلو سے کوئی تعلق نہیں جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل دنیا کی مختلف قوموں کو ان کے حالات کے مطابق علیحدہ علیحدہ شریعت کی ضرورت تھی تو خُدا نے مختلف نبیوں پر علیحدہ علیحدہ شریعتیں نازل فرمائیں۔لیکن جب دُنیا کے حالات بدل گئے اور سرور کائنات حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ سارے زمانوں اور ساری قوموں کے لئے ایک آخری اور عالمگیر شریعت نازل ہو گئی تو اس کے بعد طبعا نئی شریعت کا نزول بند ہو گیا اسی طرح چونکہ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل و مکمل نبی تھے اور عظیم الشان قوت قدسیہ لیکر مبعوث ہوئے تھے جس کے فیض سے ایک شخص نبوت کا مقام حاصل کر سکتا تھا۔اس لئے آپ کے بعد