ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 27 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 27

۲۷ قرآن مجید دوسری جگہ فرماتا ہے کہ :۔وَمَنْ يُطِعِ الله وَالرَّسُوْلَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيْنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِيْنَ ، وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (سوره نساء آیت ۷۰) دو یعنی جو لوگ خدا اور اس رسول کی سچی سچی پیروی اختیار کرتے ہیں وہ اُن لوگوں کے ساتھ شامل کئے جائیں گے جن پر ہم نے انعام کیا۔یعنی نبی اور صدیق اور شہید اور صالح۔اور یہ سب انعام پانے والی جماعتیں آپس میں بہت مبارک رفیق اور بہترین ساتھی ہیں۔“ انعام پانے والوں کے چار طبقات اس آیت میں اللہ تعالیٰ انعام پانے والے لوگوں کے مختلف طبقات بیان فرماتا ہے اور بتاتا ہے کہ دین کے رستہ میں منعلم علیہ لوگ چار قسم کے ہوتے ہیں۔اول نبی دوم صدیق۔سوم شہید اور چہارم صالح۔یعنی کوئی شخص اپنی استعداد اور اپنے محاسن کی بناء پر اور بمقتضائے ضرورتِ زمانہ نبوت کا انعام پالیتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کے مکالمہ مخاطبہ اور أمور غیبیہ سے بکثرت مشرف ہو کر مخلوق خدا کی طرف مبعوث ہوتا ہے۔اور کوئی شخص صدیق بن جاتا ہے جس کے عقائد اور اعمال گویا مجسم صداقت بن جاتے ہیں۔اور اس کے قول اور فعل میں کسی نوع کی مغائرت باقی نہیں رہتی۔اور کوئی شہید کا درجہ پالیتا ہے جس کی زندگی اور موت دین کے رستہ میں گویا ایک مجسم شہادت بن جاتی ہے۔اور کوئی صالح ہوجاتا ہے جس کے اعمال نیکی کا رستہ اختیار کر کے اس رستہ پر پختہ صورت میں قائم ہو جاتے ہیں۔