ختم نبوت کی حقیقت — Page 169
۱۶۹ ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں * اتنی باعث رسوائی پیغمبر ہیں بت شکن اُٹھ گئے باقی جو ہیں بت گر ہیں * تھا براہیم پدر اور پسر آذر ہیں شور ہے ہو گئے دُنیا سے مسلماں نابود * ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود * یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود (جواب شکوہ) ان اشعار میں علامہ اقبال جوش کی حالت میں کچھ سخت الفاظ استعمال کر گئے ہیں۔مگر اس کا خیال نہیں کرنا چاہیئے۔کیونکہ بعض اوقات اصلاح کے خیال سے تلخ الفاظ استعمال کرنے پڑتے ہیں۔پس ہمارے ناظرین کو ان الفاظ کی سختی کی طرف نہیں بلکہ ان کی رُوح کی طرف دھیان رکھنا چاہیئے۔اور رُوح نیک نیتی پر مبنی ہے بہر حال ایسے ظلماتی زمانہ میں جس کا اثر نہ صرف مسلمانوں پر بلکہ ہر مذہب و ملت پر پڑ رہا ہے۔لوگ خواہ گوشت پوست کی زبان سے بولیں یا نہ بولیں مگر زبانِ حال سے ضرور پکار رہے ہیں کہ اس وقت خدا کی طرف سے کوئی عام مصلح نہیں بلکہ نبوت کی طاقتوں والا مصلح درکار ہے۔چنانچہ اور تو اور مولانا ابو الاعلیٰ مودودی تک بھی جو اس وقت ہماری مخالفت میں پیش پیش ہیں فرماتے ہیں:۔اکثر لوگ اقامت دین کی تحریک کے لئے کسی ایسے مرد کامل کو ڈھونڈتے ہیں جو اُن میں سے ایک ایک شخص کے تصویر کمال کا مجسمہ ہو اور جس کے سارے پہلو قوی ہی قوی ہوں دُوسرے الفاظ میں یہ لوگ دراصل نبی کے طالب ہیں۔اگر چہ زبان سے ختم نبوت کا اقرار کرتے ہیں۔اور کوئی اجرائے