ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 165 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 165

عقلی دلائل کی رو سے مسئلہ ختم نبوت کا حل ہمارا عقیدہ خدائی سنت کے عین مطابق ہے بزرگانِ سلف اور جمہور مسلمانوں کی شہادت پیش کرنے کے بعد اب میں اپنے مضمون کے آخری حصہ کی طرف آتا ہوں جو عقلی دلائل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا عقلِ انسانی اپنی امکانی لغزشوں کے باوجود جو بعض اوقات خارجی ظلمات کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں، ایک اعلیٰ درجہ کا فطری ٹور ہے جو انسان کو کھوٹے کھرے کی پہچان کے لئے خُدا کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔اور دُنیا کے بیشتر مسائل اسی کی روشنی میں حل ہوتے ہیں۔سو اس تعلق میں سب سے پہلی بات تو یہ جاننی چاہئیے کہ جیسا کہ تاریخ عالم کے مطالعہ سے ثابت ہے اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ سنت ہے کہ جب کبھی بھی دُنیا میں فاسد خیالات اور فاسد اعمال کا دور دورہ شروع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اپنے کسی پاک بندہ کو لوگوں کی اصلاح کے لئے مبعوث فرماتا ہے۔اور اصلاح کا طریق حالات پر مبنی ہوتا ہے۔یعنی اگر کسی وقت نئی شریعت کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ نئی شریعت نازل فرما کر اصلاح کا کام کرواتا ہے۔اور اگر نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہوتی تو بغیر شریعت کے نبی مبعوث کر کے اصلاح کروائی جاتی ہے۔یہ سلسلہ جب سے کہ دنیا بنی ہے برابر جاری چلا آیا ہے۔اور کبھی بند نہیں ہوا۔چنانچہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کا وجود جن میں سے صرف تین سو پندرہ صاحب شریعت رسول تھے۔(مسند احمد بحوالہ مشکوۃ باب بدء الخلق) اس ابدی صداقت پر ایک زبردست گواہ ہے۔تو جب قدیم