ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 156 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 156

۱۵۶ اور حدیث لو عاش ابراهيم لكان صديقا نبيًّا کی بحث دوبارہ ملاحظہ فرما کر تسلی کر سکتے ہیں وما علینا الا البلاغ حضرت مجد والف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کا ارشاد اسلام کے وسطی زمانہ کے حوالے پیش کرنے کے بعد اب ہم اسلام کے زمانہ حال کے ابتدائی حصہ میں داخل ہوتے ہیں جو گویا گیارہویں صدی ہجری سے شروع ہوتا ہے۔اس صدی کی سب سے بڑی شخصیت حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی مجد دالف ثانی علیہ الرحمہ کا وجود با نجود ہے جن کا مقام کثیر التعداد مسلمانوں نے ان تمام مجد دین میں جن کا ظہور مسیح موعود سے پہلے مقدر تھا، سب سے بالا مانا ہے۔بہر حال حضرت مجد دالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ (وفات ۳۴ ہجری ) فرماتے ہیں :۔حصول کمالات نبوت مرتابعان را بطریق تبعیت و وراثت بعد از بعثت خاتم الرسل علیہ وعلى جميع الانبياء الصلوة والتحيات منافي خاتميت أونيست فلا تكن من الممترين“ (مکتوبات احمد یہ جلدا مکتوب ۲۷۱) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کے لئے آپ کی پیروی میں اور آپ کے رُوحانی ورثہ کے طور پر نبوت کے کمالات کا حاصل کرنا آپ کی ختم نبوت کے خلاف نہیں ہے۔پس تم اس معاملہ میں ہرگز شک کرنے والے لوگوں میں سے مت بنو۔“ کیا یہ نظریہ بعینہ وہی نظریہ نہیں ہے جو جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کیا جاتا دیکھو صفحہ ۵۷ تا ۶