ختم نبوت کی حقیقت — Page 146
۱۴۶ ہدایت دی کہ چونکہ تم لا نبی بعدی کی حقیقت کو پوری طرح نہیں سمجھتے اس لئے اس حدیث کی بجائے آیت خاتم النبیین کی طرف دھیان رکھو جس کے معنی ”نبیوں کی مہر کے ہیں۔اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے مقام نبوت کا سارا فلسفہ اس ایک لفظ میں آ جاتا ہے اور جو غلط نہی لا نبی بعدی کے الفاظ سے بعض خام طبیعتوں میں پیدا ہوسکتی ہے اس کا سد باب بھی ہو جاتا ہے۔اب دیکھو کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد کتنا واضح اور کتنا بصیرت افروز ہے جس کے بعد کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔لیکن چونکہ اوپر کی بحث میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اس قول کی کسی قدر تفصیلی تشریح گزر چکی ہے اس لئے ہمیں اس جگہ اس کے متعلق زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔بہر حال یہ بات ظاہر ہے کہ نبوت کے مسئلہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اوائل زمانہ میں ہی ایک غلط رجحان محسوس کیا اور اس کی تصحیح کی طرف فوری توجہ فرمائی۔حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کی شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ابتدائی زمانہ کے ارشادات پیش کرنے کے بعد اب میں اسلام کے وسطی زمانہ کے ایک بڑے بزرگ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی (وفات ۳۱ ہجری) کا حوالہ پیش کرتا ہوں جس میں انہوں نے صراحت اور تکرار کے ساتھ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف شریعت والی نبوت کا دروازہ بند ہے۔عام نبوت کا دروازہ ہرگز بند نہیں۔چنانچہ حضرت شیخ اکبر فرماتے ہیں:۔إن النبوة التي انقطعت بوجود رسول الله صلى الله عليه وسلّم انّما