ختم نبوت کی حقیقت — Page 144
۱۴۴ ابوعبد الرحمن کو تاکید فرمائی کہ دیکھنا میرے بچوں کو خاتم کا لفظت کی زبر سے پڑھانا زیر سے نہ پڑھانا۔تا کہ ”نبیوں کی مہر والے معنی مراد لئے جائیں اور کسی قسم کی غلط فہمی نہ پیدا ہو۔اس عجیب وغریب روایت سے پتہ لگتا ہے کہ ابتدائی زمانہ میں ہی بعض نومسلم تابعین میں اس غلط فہمی کی طرف رجحان پیدا ہونے لگا تھا کہ شاید خاتم کا لفظت کی زیر سے ہو۔اور اس سے مراد نبیوں کے سلسلہ کو بند کرنے والا ہو۔اس لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فورا ابوعبد الرحمن کو ٹوک کر ہدایت فرمائی اور صحیح رستہ پر ڈال دیا۔اب غور کرو کہ اگر لفظ خاتم (ت کی زبر سے ) اور خاتم (ت کی زیر سے ) ہر صورت میں بالکل ایک ہی معنی دیتے ہیں اور ان میں قطعا کوئی فرق نہیں ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو عبد الرحمن بن سلمیٰ کو یہ تاکید کیوں فرمائی کہ یہ لفظت کی زبر سے پڑھاؤت کی زیر سے نہ پڑھاؤ۔یقینا اس کی تہہ میں یہی خیال کارفرما تھا کہ ان مقدس صاحبزادوں اور ان کے اُستاد کے دل میں ”نبیوں کی مہر والے معنوں کا تصور قائم کیا جائے۔اور اُن کے خیال کو اس طرف جانے سے روکا جائے کہ اس کے معنی آخری نبی کے ہیں۔تا کسی قسم کی غلط فہمی کا امکان نہ رہے۔مگر افسوس ہے کہ باوجود حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس مشفقانہ انتباہ کے آجکل کے مسلمان اس بات پر مُصر ہیں کہ خاتم النبین کے معنی آخری نبی کے ہیں اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے۔بہر حال یہ وہ سب سے پہلی شہادت ہے جو اسلام کی تاریخ میں ہمارے عقیدہ کے حق میں پائی جاتی ہے۔اور شہادت بھی کس کی؟ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد اور خلفاء راشدین میں سے چوتھے خلیفہ کی جو علم و عرفان کی بستی میں دروازہ کا حکم رکھتا تھا۔اور جس کے سامنے اہل سنت والجماعت اور اہل تشیع دونوں کی گردنیں جھکتی ہیں۔