ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 138 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 138

۱۳۸ چنانچہ آپ نے اپنی موت کے متعلق جتنے بھی اعلانات فرمائے وہ سب کے سب بلا استثناء اسی نقطہ کے ارد گرد گھومتے ہیں کہ عالم رُوحانیت میں مرکزی و جود آپ کا ہے۔گزشتہ سب کمال آپ میں جذب ہو کر ختم ہوئے۔اور آئندہ ہر ٹور آپ میں سے ہو کر نکلنے والا ہے۔اس کی مثال بجلی کے ایک زبردست ٹرانس فارمر کی سی سمجھنی چاہئیے۔جس میں ایک طرف سے بجلی کی ایک روآکر داخل ہوتی ہے اور پھر دوسری طرف سے وہ ایک نیا رنگ اختیار کر کے اور گو یا نئی بجلی بن کر باہر نکلتی ہے۔رسول پاک کے مقام کے متعلق نام نہیں آپ کے اس عدیم المثال اور عجیب و غریب مقام کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے قرآن مجید نے تو خاتم النبیین کی جامع و مانع اصطلاح استعمال فرمائی ہے مگر حدیث نے حسب موقع مختلف قسم کے کلمات اور استعارات سے کام لیکر اس نادر الوجود حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔یعنی کبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ میں آخری نبی ہوں۔اور کبھی یہ فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔اور کبھی یہ فرمایا ہے کہ مجھ پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم ہے۔اور کبھی یہ فرمایا ہے کہ میں نبوت کے محل کی آخری اینٹ ہوں وغیرہ وغیرہ۔حقیقتہ یہ سارے کلمات ایک ہی مفہوم کے حامل اور ایک ہی حقیقت کے مظہر تھے۔اور یہ حقیقت وہی تھی جو قرآن مجید نے اپنے ایک جامع لفظ خاتم اصمعین میں بیان فرما دی تھی اور اس کا مطلب یہی تھا کہ آپ عالم روحانیت کا مرکزی نقطہ ہیں۔گزشتہ ہر تار آپ میں آکر ختم ہوگئی۔اور آئندہ ہر تار آپ میں سے ہو کر نئی صورت میں نکلے گی۔TRANS-FORMER ✓