ختم نبوت کی حقیقت — Page 139
۱۳۹ صحابہ کرام کی مقدس جماعت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی براہ راست تربیت کے نیچے تھی۔وہ تو فی الجملہ اس نادر حقیقت اور اس روحانی فلسفہ کو اچھی طرح جانتی اور مجھی تھی۔اور انہیں اس معاملہ میں کوئی غلط نبی نہیں تھی لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب کے دور افتادہ حصوں اور بیرونی ملکوں کے لوگوں نے جوق در جوق اسلام قبول کیا اور یدخلون فی دین اللہ افواجا کا زمانہ آیا تو نئے مسلمان ہونے والوں میں سے ایک حصہ نے رسول پاک کے ان اعلانوں اور ان اصطلاحوں کی اصل حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے ان کی تشریح میں اپنے اپنے طور پر خیال آرائی شروع کر دی۔یہ نومسلم لوگ جوصحابہ کے بعد آنے والے تابعی تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پرحکمت الفاظ لا نبی بعدی اور ائی آخر الانبیاء وغیرہ سنتے تھے اور ان میں سے بعض اس سوچ میں پڑ جاتے تھے کہ ان الفاظ کی حقیقت کیا ہے؟ وہ ابھی تک اس گہرے رُوحانی فلسفہ کی بنیادی حقیقت سے نا آشنا تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رکن معنوں میں اپنے آپ کو اگلی اور پچھلی تاروں کے اتصال کا مرکز قرار دیا ہے۔اور چونکہ اسلامی تعلیم کا مرکزی نقطہ یہ کلمہ طیبہ ہے کہ لا الہ إِلَّا الله محمد رسول اللہ اور اس کلمہ میں ختم نبوت کا کوئی ذکر نہیں۔اور جس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ ارکانِ اسلام بیان فرمائے ہیں اس میں بھی ختم نبوت کا کوئی ذکر نہیں اس لئے وہ اس بحث کو ایک زائد علمی مسئلہ سمجھ کر خاموش ہو جاتے تھے۔اسلام کی ظاہری حد بندی کے متعلق ایک ضمنی نوٹ یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جیسا کہ حدیث میں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار صراحت فرمائی ہے اسلام کی ظاہری حد بندی صرف