ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 11 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 11

بلکہ یہ چاند سورج کے کمال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ وہ اسی کا ظل ہے نہ کہ اصل، تابع ہے نہ کہ آزاد۔موت کی تین اقسام اس تمہیدی نوٹ کے بعد میں اپنے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں جو مسئلہ ختم مبقت کی تشریح اور توضیح کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔سو جاننا چاہئے کہ جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ جیسا کہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور تاریخ بھی اس کی شہادت دیتی ہے انبیاء تین قسم کے ہوتے ہیں۔اوّل وہ نبی جو خدا کی طرف سے کوئی نئی شریعت لاتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو راہ کی شریعت لائے۔یا جیسا کہ ہمارے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) قرآن مجید کی شریعت کے ساتھ مبعوث ہوئے۔ایسے انبیاء تشریعی نبی یا صاحب شریعت نبی کہلاتے ہیں۔دوسرے وہ نبی جو کوئی نئی شریعت تو نہیں لاتے بلکہ کسی سابقہ شریعت کی خدمت کے لئے مبعوث ہوتے ہیں مگر ویسے ان کی نبوت مستقل نبوت ہوتی ہے جو انہیں کسی سابقہ نبی کی اتباع کی وجہ سے نہیں ملتی بلکہ خدا کی طرف سے براہِ - راست ملتی ہے۔جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت داؤ داور حضرت سلیمان اور حضرت ذکریا اور حضرت یحیی اور حضرت عیسی علیہم السلام مبعوث ہوئے۔یہ سب انبیاء جیسا کہ قرآن مجید اور توراۃ اور انجیل سے ثابت ہے ، موسوی شریعت کے تابع تو ضرور تھے اور اسی کی خدمت کے لئے مبعوث ہوئے تھے مگر بایں ہمہ وہ مستقل نبی تھے کیونکہ اُن کی نبوت کے حصول میں حضرت موسی کی اتباع کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ اُنہوں نے یہ انعام براه راست خدا کی طرف سے اپنی ذاتی حیثیت میں پایا تھا اور پھر وہ موسوی شریعت کی