ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 136 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 136

۱۳۶ دیگا۔پس ذیل میں بعض گزشتہ بزرگوں کے اقوال پیش کرنے میں خاکسار راقم الحروف کی یہی دُہری غرض ہے کہ :۔(۱) ختم نبوت کے عقیدہ کے متعلق اسلام کے بہت سے ممتاز بزرگ ہر زمانہ میں کم و بیش انہی خیالات کا اظہار کرتے آئے ہیں جو موجودہ زمانہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں۔اس لئے جماعت احمدیہ کو ان خیالات کی وجہ سے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج نہیں قرار دیا جا سکتا۔ور نہ ان بزرگوں کے متعلق کیا کہا جائے گا جو ہم سے پہلے اسی قسم کے خیالات ظاہر فرما چکے ہیں؟ (۲) ان عقائد کی موجودگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس مخصوص مسئلہ میں بھی ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مبارک ارشاد پورا ہوا ہے کہ میری اُمت کا ایک نہ ایک حصہ ہر زمانہ میں حق پر قائم رہے گا۔اور یہ کہ خدا کے فضل و رحمت سے موجودہ زمانہ میں جماعت احمدیہ ہی اس بشارت کی مصداق ہے اور اس کے ساتھ وہ اس عظیم الشان بشارت کی بھی مصداق ہے کہ لا یضرھم من خالفهم حتى يأتى امر الله - یعنی درمیانی ابتلاؤں اور امتحانوں کے باوجود آخری کامیابی اُسی کے لئے مقدر ہے۔مسئلہ نبوت میں کب اور کس طرح غلط فہمی پیدا ہوئی ؟ انفرادی حوالے پیش کرنے سے قبل ایک اور سوال کا جواب دینا بھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ مسئلہ ختم نبوت کے متعلق عام مسلمانوں میں کب اور کس طرح غلط نہی پیدا ہوئی؟