ختم نبوت کی حقیقت — Page 130
کہ جو بھی آئے گا وہ جھوٹا ہو گا۔بلکہ اگر غور کیا جائے تو اس تعداد کے ذکر میں یہ مخفی اشارہ بھی ہے کہ دیکھنا سارے مدعیوں کو رڈ نہ کر بیٹھنا بلکہ بعض مدعی بچے بھی ہوں گے۔بھائیوغور کرو اور سوچو کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی منشاء ہوتا کہ آپ کے بعد ہر مدعی نبوت چھوٹا ہے تو آپ ہر گز تین کی حد بندی نہ فرماتے بلکہ صاف ارشاد فرماتے کہ میرے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعوے کرے وہ جھوٹا ہے۔لیکن آپ نے ایسا نہیں فرمایا بلکہ صرف یہ فرمایا کہ میرے بعد تیس جھوٹے مدعی پیدا ہوں گے جس میں یہ صاف اشارہ ہے کہ ان کذابوں کو چھوڑ کر بعض مدعی بچے بھی ہوں گے۔یہ بعینہ وہی صورت ہے جو سنن ابوداؤد کی اس حدیث میں بیان ہوئی۔ہے جو ہم اُو پر درج کر آئے ہیں۔اس حدیث میں ہمارے رسول پاک صل اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ :۔لیس بینی و بینۂ نبی و انۂ نازل۔(ابوداؤ د کتاب الملاحم) یعنی میرے اور آنے والے مسیح کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہوگا۔“ یہ لطیف حدیث کس وضاحت اور کس فصاحت کے ساتھ ثلاثون دجالون ( تیس دجال) والی حدیث کی تشریح کر کے بتا رہی ہے کہ بیشک اُمت محمدیہ میں تیس جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوں گے لیکن ایک سچا نبی بھی ہوگا اور وہ وہی ہے جو آخری زمانہ میں مثیل مسیح بن کر آئے گا۔گویا ان دو حدیثوں کے ذریعہ یہ بتانا مقصود تھا کہ مسیح موعود سے پہلے تو کئی جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوتے رہیں گے۔لیکن پھر جھوٹے مدعیوں کی صف لپیٹ دی جائے گی اور بچے مدعی کی آمد کا ڈنکا بجنے لگے گا۔