ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 124 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 124

۱۲۴ میں صرف ایک اینٹ کی کمی رہ گئی تھی اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نے پوری کر دی۔پھر اس کے بعد کس چیز کی گنجائش رہ جاتی ہے؟ مگر افسوس ہے کہ ہمارے بھٹکے ہوئے بھائیوں نے ہماری مخالفت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع شان کو بھی بھلا رکھا ہے اور اس حدیث کی غلط تشریح کر کے آپ کے درجہ کو گھٹا ر ہے ہیں۔حالانکہ جو مثال اس حدیث میں بیان کی گئی ہے اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا مقام بیان کر نا ہر گز مقصود نہیں۔بلکہ صرف شریعت کی تکمیل کی طرف اشارہ کرنا اصل غرض ہے۔اور حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ دُنیا میں کئی صاحب شریعت نبی آئے اور ہر نئی شریعت کے نازل ہونے سے گویا نبوت کی عمارت میں ایک مزید اینٹ لگتی گئی حتی کہ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے آخری اینٹ لگ کر شریعت کی عمارت مکمل ہو گئی۔اور اسلامی شریعت نے نہ صرف سابقہ شریعتوں کی مستقل صداقتوں کو اپنے اندر لے لیا بلکہ مزید مستقل ارشادات کو بھی شامل کر کے تشریعی ہدایات کی ایک دائمی اور عالمگیر عمارت کھڑی کر دی۔اس حدیث میں صرف تکمیل شریعت کا ذکر ہے پس اس حدیث میں صرف شریعت کی تکمیل کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا اور مسئلہ نبوت کے دوسرے پہلوؤں سے اسے ہرگز کوئی تعلق نہیں۔یہی وہ نقطۂ نظر ہے جو اس حدیث کے متعلق اسلام کے گزشتہ علماء لیتے رہے ہیں چنانچہ علامہ ابن حجر (وفات ۵۵۲ ہجری) جنہوں نے صحیح بخاری کی مشہور شرح فتح الباری لکھی ہے اور حدیث کے علم میں امام کا درجہ رکھتے ہیں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔