ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 122 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 122

۱۲۲ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کا لطیف حوالہ چنانچہ یہی وہ تشریح ہے جو اسلام کے چوٹی کے علماء اور صلحاء ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔مثلاً حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی (وفات ۳۸ ہجری) فرماتے ہیں :۔ان النبوة التي انقطعت بوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم انّما هي النبوّة التشريع لا مقامها۔۔۔۔۔۔و هذا معنى قوله صلى الله عليه وسلم ان الرسالة والنبوّة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبى آى لا نبی بعدى يكون على شرع يخالف شرعى بل اذا كان يكون تحت حکم شریعتی۔فتوحات مکیہ جلد ۲ باب ۷۳ مطبوعہ مصر ) یعنی جہاں یہ بات کہی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کے ساتھ نبوت کا سلسلہ بند ہو گیا ہے وہاں صرف تشریعی نبوت مراد ہے جس کے لئے رسول پاک کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔یہی اس حدیث کی تشریح ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اب رسالت اور نبوت ختم ہو گئی ہے اور میرے بعد کوئی رسول اور نبی نہیں۔اس سے آپ کی مراد صرف یہ تھی کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو میری شریعت کے خلاف کوئی اور شریعت لے کر مبعوث ہو بلکہ جب بھی کوئی آئے گا تو میری ہی شریعت کے ماتحت ہوگا۔“ اب دیکھو کہ یہ حوالہ کتنا واضح اور کتنا صاف ہے۔اور پھر یہ حوالہ آج کا نہیں بلکہ آج