ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 115 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 115

۱۱۵ چل بسا داغ آہ میت اس کی زیب دوش ہے آخری شاعر جہاں آباد کا خاموش ہے (با نگ درا) ظاہر ہے کہ اس جگہ آخری شاعر سے حقیقۂ آخری شاعر مراد نہیں۔کیونکہ شاعری کا سلسلہ تو داغ کے بعد بھی جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہیگا بلکہ ہمارے ملک کے ادیب خود ڈاکٹر اقبال کو داغ سے بدرجہا بہتر شاعر خیال کرتے ہیں۔پس اس جگہ مراد صرف یہ ہے کہ ڈاکٹر اقبال کے نزدیک پرانی شاعری کے میدان میں داغ فرنِ شعر کی آخری حد یعنی کمال کو پہنچا ہو ا شاعر تھا۔اس لحاظ سے آخر الانبیاء کے یہ معنی ہوں گے کہ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے میدان میں کمالات نبوت کی آخری حد کو پہنچے ہوئے تھے۔اور یہ بھی اپنی جگہ بالکل صحیح اور بہت لطیف معنی ہیں۔حديث لو كان بعدی نبی لکان عُمر کی تشریح تیسری حدیث جو ہمارے مخالفین کی طرف سے پیش کی جاتی ہے اُس کے یہ الفاظ ہیں کہ لو کان بعدی نبی لکان عُمر۔یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔‘ اس حدیث سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔کیونکہ آپ نے صاف فرما دیا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی شخص نبی بن سکتا تو عمر ضرور نبی بن جاتا۔لیکن چونکہ عمر نبی نہیں بنے اس لئے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ بالکل بند ہے۔مگر غور کیا جائے تو یہ تشریح بھی تحقیق و تدقیق کی خورد بین کے نیچے درست ثابت نہیں ہوتی۔ہمارے ناظرین کو یاد ہوگا کہ